حکومت نے پیٹرول سستا کرنے کے ساتھ مٹی کا تیل مہنگا کر دیا، فی لیٹر کتنا اضافہ؟

حکومت نے پیٹرول سستا کرنے کے ساتھ مٹی کا تیل مہنگا کر دیا، فی لیٹر کتنا اضافہ؟

وفاقی حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ردوبدل کرتے ہوئے عوام کو ایک طرف ریلیف دیا ہے تو دوسری جانب مٹی کے تیل کی قیمت میں اضافہ کر کے اضافی بوجھ بھی ڈال دیا ہے۔

حکومت کی جانب سے رات گئے پیٹرول کی قیمت میں کمی کا اعلان کیا گیا جس کے مطابق پیٹرول 4 روپے سستا کیا گیا ہے جبکہ ڈیزل کی قیمت میں 2 روپے فی لیٹر کمی کی گئی جس سے گاڑی استعمال کرنے والے صارفین کو کچھ ریلیف ملے گا تاہم ساتھ ہی مٹی کے تیل کی قیمت بڑھا دی گئی ہے جس سے بالخصوص دیہی اور دور دراز علاقوں کے صارفین متاثر ہوں گے۔

آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق مٹی کے تیل کی قیمت میں ایک روپے 49 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے۔ اضافے کے بعد مٹی کے تیل کی نئی قیمت 282 روپے 19 پیسے فی لیٹر مقرر کر دی گئی ہے جبکہ اس سے قبل یہ 280 روپے 70 پیسے فی لیٹر فروخت ہو رہا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:بجٹ میں مختص 838 ارب کن غریب فیملیوں میں اور کیسے تقسیم ہوں گے؟

نوٹیفکیشن کے مطابق نئی قیمتوں کا اطلاق فوری طور پر کر دیا گیا ہے۔ مٹی کے تیل کی قیمت میں اضافے سے ان علاقوں میں رہنے والے افراد زیادہ متاثر ہوں گے جہاں اب بھی گھریلو استعمال، روشنی اور بعض مقاصد کے لیے مٹی کے تیل پر انحصار کیا جاتا ہے۔

 پیٹرول کی قیمت میں کمی سے ٹرانسپورٹ کے شعبے کو محدود ریلیف ملے گا تاہم مٹی کے تیل کی قیمت میں اضافہ حکومت کے اس ریلیف کے اثرات کو جزوی طور پر کم کر سکتا ہے۔  توانائی کے مختلف ذرائع کی قیمتوں میں مسلسل ردوبدل عوامی اخراجات پر براہ راست اثر انداز ہوتا ہے۔

شہری حلقوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین میں عام صارفین کے مفادات کو مدنظر رکھا جائے تاکہ مہنگائی سے متاثرہ عوام کو حقیقی ریلیف فراہم کیا جا سکے۔

editor

Related Articles