گاڑیوں کے خریدار ہوجائیں تیار،چینی گاڑیوں کے مقابلے میں جاپانی کمپنیوں کے قیمتوں اور پیداوار کے متعلق اہم فیصلے

گاڑیوں کے خریدار ہوجائیں تیار،چینی گاڑیوں کے مقابلے میں جاپانی کمپنیوں کے قیمتوں اور پیداوار کے متعلق اہم فیصلے

جاپان نے پاکستان میں اپنی آٹوموٹو سرمایہ کاری کو مزید وسعت دینے کا اعلان کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں ایک لاکھ سے زائد براہِ راست اور بالواسطہ روزگار کے مواقع پیدا ہونے کی توقع ہے۔ اس پیش رفت کا اعلان اسلام آباد میں منعقدہ جاپان-پاکستان بزنس سیمینار 2026 کے دوران کیا گیا، جہاں دونوں ممالک کے حکومتی نمائندوں اور صنعتی ماہرین نے شرکت کی۔

سیمینار میں اس امر پر زور دیا گیا کہ پاکستان کی آٹوموبائل صنعت گزشتہ کئی دہائیوں سے جاپانی تعاون سے مستفید ہو رہی ہے، اور اب اس شراکت داری کو مزید گہرا کر کے کار مینوفیکچرنگ، آٹو پارٹس کی مقامی تیاری (لوکلائزیشن) اور وینڈر ڈیولپمنٹ کے شعبوں میں نئی رفتار دی جائے گی۔ حکام کے مطابق مجوزہ منصوبوں کے تحت آٹو پارٹس کی لوکلائزیشن کی شرح 60 فیصد تک بڑھانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، جس سے مقامی صنعت کو مضبوط بنیاد فراہم ہوگی اور درآمدی انحصار میں کمی آئے گی۔

یہ بھی پڑھیں:دس لاکھ سے کم میں کون سی گاڑیاں خریدی جاسکتی ہیں؟گاڑیوں کی مکمل تفصیلات

تقریب میں جدید مینوفیکچرنگ ٹیکنالوجیز کے فروغ پر بھی زور دیا گیا، جن میں جاپان کے معروف کائزن (Kaizen) اصول اور 5S ورک پلیس سسٹم شامل ہیں۔ ان نظاموں کا مقصد پیداواری معیار کو بہتر بنانا، فضلہ کم کرنا اور کارکردگی میں اضافہ کرنا ہے۔ ماہرین کا کہنا تھا کہ اگر پاکستانی فیکٹریوں میں ان جدید طریقہ کار کو مؤثر انداز میں اپنایا گیا تو ملکی آٹو انڈسٹری عالمی معیار کے قریب تر ہو سکے گی۔

جاپانی نمائندوں نے اس موقع پر گرین اور ہائبرڈ گاڑیوں کی ٹیکنالوجی کے فروغ پر بھی خصوصی توجہ دینے کا اعلان کیا۔ عالمی آٹو مارکیٹ تیزی سے ماحول دوست گاڑیوں کی جانب بڑھ رہی ہے، اور پاکستان میں بھی ہائبرڈ اور کم ایندھن خرچ کرنے والی گاڑیوں کی طلب میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ اس تناظر میں ٹیکنالوجی کی منتقلی، انجینئرنگ تربیت اور مقامی سطح پر ہائبرڈ گاڑیوں کی تیاری کو ترجیح دی جائے گی۔

یہ بھی پڑھیں:چینی برانڈ کی نئی گاڑی جیکو میں تکنیکی خرابیوں کا انکشاف،کمپنی نے گاڑیاں واپس منگوا لیں

صنعتی ماہرین کے مطابق لوکلائزیشن میں اضافے سے مقامی وینڈرز اور اسمبلرز کو نمایاں فائدہ ہوگا۔ آٹو پارٹس کی طلب بڑھنے سے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کارخانوں کو ترقی کے مواقع ملیں گے، معیار بہتر ہوگا اور سپلائی چین زیادہ مستحکم ہو گی۔ اس کے ساتھ ساتھ ہنرمند افرادی قوت کی تربیت اور ٹیکنیکل انسٹی ٹیوٹس کے ساتھ تعاون بھی بڑھایا جائے گا تاکہ نوجوانوں کو جدید آٹو ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ کیا جا سکے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ منصوبے مؤثر انداز میں عملی شکل اختیار کرتے ہیں تو پاکستان کی آٹو انڈسٹری نہ صرف مقامی مارکیٹ میں مضبوط ہوگی بلکہ برآمدات کے امکانات بھی روشن ہوں گے۔ طویل المدتی بنیادوں پر صارفین کو بہتر کوالٹی، زیادہ ماڈلز کی دستیابی اور ہائبرڈ گاڑیوں کے وسیع انتخاب کا فائدہ مل سکتا ہے۔

مبصرین کے مطابق جاپان کی توسیع شدہ آٹوموٹو سرمایہ کاری پاکستان کے صنعتی شعبے کے لیے ایک اہم سنگِ میل ثابت ہو سکتی ہے، بشرطیکہ لوکلائزیشن، مہارتوں کی ترقی اور پالیسی تسلسل کو یقینی بنایا جائے۔ یہ اقدام نہ صرف صنعتی ترقی بلکہ روزگار، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور معاشی استحکام کے لیے بھی مثبت پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

editor

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *