بنگلہ دیش میں آج 13 ویں قومی پارلیمنٹ کے انتخاب کے لیے پولنگ کا آغاز ہو گیا ہے، جسے ملک میں ‘جمہوری ری سیٹ’ (Democratic Reset) قرار دیا جا رہا ہے۔
تفصیلات کےمطابق بنگلہ دیش میں آج انتخابات کا دن ہے اور بنگلہ دیش کے 12.77 کروڑ سے زائد ووٹرز نہ صرف اپنے نمائندوں کا انتخاب کریں گے بلکہ ایک تاریخی ریفرنڈم کے ذریعے ملک کے آئینی مستقبل کا بھی فیصلہ کریں گے۔
وٹرز کو دو بیلٹ دیے جا رہے ہیں۔ سفید بیلٹ پارلیمانی نمائندے کے لیے اور گلابی بیلٹ ‘جولائی نیشنل چارٹر’ (آئینی اصلاحات) پر ریفرنڈم کے لیے ہے۔ ریفرنڈم میں وزیر اعظم کے لیے زیادہ سے زیادہ 2 مدتوں کی حد، عدلیہ کی خود مختاری، اور پارلیمنٹ میں ‘اپر ہاؤس’ کے قیام جیسے اہم نکات شامل ہیں۔
کل ووٹرز کا 44 فیصد (5.6 کروڑ) نوجوانوں پر مشتمل ہے، جن کا ووٹ اس بار فیصلہ کن ثابت ہوگا۔
چیف ایڈوائزر پروفیسر محمد یونس کی قیادت میں عبوری حکومت نے شفافیت کے لیے پہلی بار غیر معمولی اقدامات کیے ہیں۔
پولنگ اسٹیشنز پر ڈرونز، سی سی ٹی وی اور باڈی کیمروں کا استعمال کیا جا رہا ہے۔ ملک بھر میں 10 لاکھ سے زائد سیکیورٹی اہلکار اور فوج کے دستے امن و امان برقرار رکھنے کے لیے الرٹ ہیں۔ پہلی بار بیرونِ ملک مقیم 7 لاکھ سے زائد بنگلہ دیشی شہریوں کو ووٹ کا حق دیا گیا ہے۔
عوامی لیگ کے براہ راست باہر ہونے سے سیاسی منظرنامہ بدل گیا ہے اورمعاشی بحالی اور شفافیت کے نعرے کے ساتھ مضبوط پوزیشن میں ہے۔ یہ اتحاد ‘کلین اور اخلاقی’ متبادل کے طور پر ابھرا ہے، جسے نوجوانوں کی بڑی حمایت حاصل ہے۔
اسلامی تحریک: 253 نشستوں پر اپنے امیدوار کھڑے کر کے یہ جماعت مذہبی ووٹ بینک میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ الیکشن کمیشن نے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر سختی برتی ہے۔ بی این پی کے رہنما منظور الاحسن منشی کی ویڈیو وائرل ہونے پر (جس میں وہ مخالفین کو دھمکیاں دے رہے تھے) انہیں پارٹی سے نکال دیا گیا ہے، جو کہ شفافیت کی جانب ایک مثبت قدم ہے۔
یہ الیکشن بنگلہ دیش میں عشروں سے جاری دو طرفہ روایتی سیاست (حسینہ واجد بمقابلہ خالدہ ضیاء) کے خاتمے اور ایک نئے عوامی نظام کی شروعات کی علامت ہے۔ اگر یہ عمل پرامن رہا تو بنگلہ دیش ایشیا میں ایک مستحکم جمہوریت کے طور پر ابھرے گا۔
مزید پڑھیں: آئی سی سی نے پاکستان کے تمام مطالبات مان لیے، بنگلہ دیش سے متعلق بڑا فیصلہ

