کم عمر نوجوانوں کو بھی گاڑی چلانے کی اجازت،سفارشات تیار

کم عمر نوجوانوں کو بھی گاڑی چلانے کی اجازت،سفارشات تیار

پنجاب میں کم عمر نوجوانوں کی بڑھتی ہوئی ڈرائیونگ کے رجحان کو مدِنظر رکھتے ہوئے قانون سازی کے دائرے میں لانے کی ایک نئی تجویز سامنے آ گئی ہے۔

پنجاب اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ نے موٹر سائیکل پرمٹ کے بعد اب 16 سال کی عمر کے لڑکوں اور لڑکیوں کو مخصوص چھوٹی گاڑیاں چلانے کی اجازت دینے کی سفارش کر دی ہے۔ اس اقدام کا مقصد ان طلبہ کو قانونی تحفظ فراہم کرنا ہے جو تعلیمی اداروں کے لیے روزانہ سفر کے دوران پہلے ہی گاڑیاں استعمال کر رہے ہیں۔

ذرائع کے مطابق مجوزہ پالیسی کے تحت کم عمر ڈرائیورز کو صرف محدود انجن گنجائش والی گاڑیاں چلانے کی اجازت دی جائے گی۔ تجویز میں واضح کیا گیا ہے کہ 16 سالہ نوجوان 660 سی سی سے 1000 سی سی تک کی گاڑیاں چلا سکیں گے، تاکہ رفتار اور طاقت کو ایک حد میں رکھا جا سکے اور سڑکوں پر خطرات کم ہوں۔

یہ بھی پڑھیں:گاڑیوں کے خریدار ہوجائیں تیار،چینی گاڑیوں کے مقابلے میں جاپانی کمپنیوں کے قیمتوں اور پیداوار کے متعلق اہم فیصلے

اس پالیسی کا ایک اہم پہلو “جووینائل ڈرائیونگ پرمٹ” کا اجرا ہے، جو موٹر سائیکل پرمٹ کی طرز پر متعارف کرایا جائے گا۔ اس خصوصی پرمٹ کے تحت کم عمر ڈرائیورز کو قانونی شناخت دی جائے گی اور ان کی ڈرائیونگ پر باقاعدہ نگرانی ممکن بنائی جا سکے گی۔

قانونی ماہرین کے مطابق اس تجویز پر عمل درآمد کے لیے پنجاب موٹر وہیکلز آرڈیننس 1965 میں ضروری ترامیم تجویز کر دی گئی ہیں، جنہیں صوبائی حکومت کے ذریعے حتمی منظوری کے بعد گورنر پنجاب کے سامنے پیش کیا جائے گا۔ منظوری کی صورت میں یہ قانون صوبے بھر میں نافذ العمل ہو سکے گا۔

حکام کا کہنا ہے کہ حالیہ دنوں میں ٹریفک قوانین کے خلاف کریک ڈاؤن کے دوران بڑی تعداد میں ایسے کالج اور یونیورسٹی طلبہ سامنے آئے جن کی عمر 16 سال کے لگ بھگ تھی اور وہ بغیر لائسنس گاڑیاں چلا رہے تھے۔ اس صورتحال کے باعث نہ صرف طلبہ بلکہ ان کے والدین اور تعلیمی اداروں کو بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

یہ بھی پڑھیں:اٹلی کا پاکستانی طلبا کے لیے بڑا اعلان،ہر ماہ نو سو یورو وظیفہ اور یونیورسٹی کی فیس میں مکمل چھوٹ

قانون سازوں کے مطابق اس نرمی کا مقصد سزا دینے کے بجائے نظم و ضبط کو فروغ دینا ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ اگر کم عمر ڈرائیورز کو ایک باقاعدہ قانونی فریم ورک کے تحت لایا جائے تو ٹریفک قوانین کی پاسداری بہتر انداز میں ممکن ہو سکے گی اور حادثات کے امکانات بھی کم ہوں گے۔

editor

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *