بنگلہ دیش نئے دور میں داخل، بی این پی کی تاریخی فتح،20 سال بعد اقتدار میں واپسی

بنگلہ دیش نئے دور میں داخل، بی این پی کی تاریخی فتح،20 سال بعد اقتدار میں واپسی

بنگلہ دیش میں جمعہ کے روز ہونے والے عام انتخابات میں بنگلہ دیش نیشنل پارٹی (بی این پی) نے واضح اکثریت حاصل کر کے سیاسی منظرنامے میں بڑی تبدیلی کا اعلان کیا ہے۔ ملک میں سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ کے عہدے سے جانے اور مہینوں کے سیاسی ہنگاموں کے بعد بی این پی کی جیت سے استحکام کی توقع پیدا ہو گئی ہے۔

مقامی ذرائع کے مطابق بی این پی اور اس کے اتحادیوں نے قومی اسمبلی کی 299 میں سے 212 نشستیں جیتیں، جبکہ اپوزیشن جماعت جمعیت اسلامی اور اس کے اتحادی 70 نشستوں تک محدود رہے۔ یہ انتخابات گزشتہ برسوں میں بنگلہ دیش کے پہلے حقیقی مسابقتی انتخابات کے طور پر دیکھے جا رہے تھے، جس میں 50 سے زائد جماعتوں کے 2,000 سے زیادہ امیدوار حصہ لے رہے تھے۔

بی این پی، جو 20 سال بعد دوبارہ اقتدار میں آ رہی ہے، نے جیت کے فوراً بعد عوام کا شکریہ ادا کیا اور ملک و قوم کے لیے دعا کی اپیل کی۔ پارٹی نے اعلان کیا کہ اس بار کسی ریلی یا جشن کا انعقاد نہیں کیا جائے گا اور ملک بھر میں خصوصی دعا کا اہتمام کیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں:حکومت کی سکیم سے الیکٹرک بائیک حاصل کرنے کا سنہری موقع، رجسٹریشن پورٹل پر شروع،تفصیلات جانیے

یہ انتخابات ملک میں استحکام کے لیے اہم سمجھے جا رہے تھے، جہاں پچھلے چند مہینوں تک حسینہ واجد کے مخالفین کے ہنگاموں نے روزمرہ زندگی اور برآمدی صنعتوں، خاص طور پر گارمنٹس سیکٹر کو متاثر کیا تھا۔ بی این پی کے رہنما طارق رحمان کی وزیراعظم بننے کی توقع ہے۔ طارق رحمان، پارٹی بانی سابق صدر ضیاءالرحمان کے بیٹے، دسمبر میں 18 سال بعد بیرون ملک سے ڈھاکہ واپس آئے تھے۔

انتخابات کے دوران پیپر بیلٹ کی دستی گنتی جاری رہی اور دوپہر تک جاری رہی۔ بی این پی کی 200 سے زائد نشستوں کے ساتھ یہ جیت 2001 میں حاصل کی گئی 193 نشستوں کی فتح سے بھی بڑی ہے۔ اگرچہ عوامی لیگ، جو پچھلے 15 سال حکومت کر چکی تھی، اس بار انتخاب میں حصہ نہیں لے سکی، لیکن اس نے 2008 میں 230 نشستیں جیت رکھی تھیں۔

یہ بھی پڑھیں:رمضان میں کون سی 20اشیاءسستے داموں ملیں گی، حکومت نے اعلان کر دیا،شہریوں کیلئے بڑی خوشخبری

رات گئے بی این پی کے ہیڈکوارٹر میں حامیوں نے جیت کے بعد خوشی کا اظہار کیا اور نعرے لگائے۔ جماعت اسلامی کے سربراہ نے شکست تسلیم کی اور کہا کہ پارٹی صرف مخالفت کے لیے مخالفت نہیں کرے گی بلکہ مثبت سیاست کرے گی۔

انتخابات میں شرکت 42 فیصد کے مقابلے میں بڑھ کر 60 فیصد سے زائد رہی۔ انتخابی اصلاحات پر ریفرنڈم میں 20 لاکھ سے زائد ووٹرز نے ہاں کہا، جبکہ 8.5 لاکھ سے زائد نے نہیں کہا۔ اس ریفرنڈم میں وزیر اعظم کے لیے دو مدتی حدود، عدلیہ کی مضبوط آزادی، خواتین کی نمائندگی، عبوری حکومتیں اور پارلیمنٹ کے دوسرے ایوان کے قیام جیسے مسائل شامل تھے۔

editor

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *