کیا بجلی مزید مہنگی ہوگی؟عالمی مالیاتی فنڈ کی شرط سامنے آگئی

کیا بجلی مزید مہنگی ہوگی؟عالمی مالیاتی فنڈ کی شرط سامنے آگئی

عالمی مالیاتی فنڈ نے کہا ہے کہ وہ پاکستانی حکام کے ساتھ بجلی کی قیمتوں میں مجوزہ تبدیلیوں پر تفصیلی بات چیت کر رہا ہے، تاہم اس بات پر زور دیا ہے کہ کسی بھی نئے اقدام کا بوجھ متوسط یا کم آمدنی والے طبقے پر نہیں پڑنا چاہیے۔ عالمی مالیاتی ادارے نے واضح کیا کہ جاری مذاکرات میں اس امر کا جائزہ لیا جائے گا کہ آیا نرخوں میں مجوزہ ردوبدل طے شدہ اصلاحاتی وعدوں سے مطابقت رکھتے ہیں یا نہیں؟۔

برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق عالمی مالیاتی فنڈ نے اپنے بیان میں کہا کہ مجوزہ تبدیلیوں کے ممکنہ معاشی اثرات، خصوصاً مہنگائی اور مجموعی معاشی استحکام پر پڑنے والے دباؤ کا تخمینہ بھی لگایا جا رہا ہے۔ ادارے کا کہنا تھا کہ توانائی کے شعبے میں پائیدار اصلاحات ضروری ہیں، مگر ان اصلاحات کو سماجی تحفظ کے اقدامات کے ساتھ متوازن کرنا بھی ناگزیر ہے۔

یہ بھی پڑھیں:بین الاقوامی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف نے غزہ کی تعمیرِنو میں تعاون کی پیشکش کر دی

پاکستان نے حالیہ دنوں بجلی کی قیمتوں کے ڈھانچے میں بڑی تبدیلیوں کا عندیہ دیا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اس حکمت عملی سے صنعتی شعبے کو کسی حد تک ریلیف مل سکتا ہے تاکہ برآمدات اور پیداواری لاگت میں توازن لایا جا سکے، تاہم گھریلو صارفین کے لیے مہنگائی کا نیا دباؤ پیدا ہونے کا خدشہ موجود ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ’مہنگائی پہلے ہی عوام کی قوتِ خرید کو متاثر کر چکی ہے‘ ایسے میں نرخوں میں اضافہ سیاسی طور پر حساس معاملہ بن چکا ہے۔

یہ تمام پیش رفت 7 ارب ڈالر کے توسیع شدہ فنڈ سہولت پروگرام کے تناظر میں ہو رہی ہے، جس کے تحت پاکستان کو معاشی استحکام کے لیے مالی معاونت فراہم کی جا رہی ہے۔ توسیع شدہ فنڈ سہولت ایک طویل مدتی قرض پروگرام ہے جس کا مقصد ادائیگیوں کے توازن کے مسائل اور ساختی کمزوریوں کا حل نکالنا ہوتا ہے۔ ذرائع کے مطابق پروگرام کے اگلے جائزے سے قبل توانائی کے شعبے میں پیش رفت کو خاص اہمیت دی جا رہی ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق صارف قیمت اشاریے میں بجلی کا وزن نمایاں ہے، جس کے باعث نرخوں میں معمولی ردوبدل بھی مجموعی مہنگائی کی شرح کو متاثر کر سکتا ہے۔ اگرچہ 2023 میں مہنگائی تقریباً 40 فیصد کی بلند ترین سطح سے نیچے آ چکی ہے، تاہم عوامی سطح پر قیمتوں کا دباؤ اب بھی ایک بڑا مسئلہ سمجھا جا رہا ہے۔ حکام کے مطابق ’اصلاحات ناگزیر ہیں مگر عوامی مفاد اولین ترجیح ہے‘۔

پاکستان کا توانائی کا شعبہ طویل عرصے سے گردشی قرضوں کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے۔ یہ قرضہ دراصل ادا نہ کیے گئے بلوں، سبسڈی کے فرق اور ترسیلی نقصانات کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے جو بجلی پیدا کرنے والی کمپنیوں، تقسیم کار اداروں اور حکومت کے درمیان جمع ہوتا رہتا ہے۔

مزید پڑھیں:پاکستان کی حالیہ معاشی کارکردگی کو عالمی مالیاتی جریدے نے معاشی کرشمہ قرار دے دیا

عالمی مالیاتی فنڈ کا کہنا ہے کہ بہتر وصولیوں اور نقصانات میں کمی کے باعث گردشی قرضے کے اضافے کو پروگرام کے اہداف کے اندر رکھا گیا ہے، تاہم پائیدار حل کے لیے مزید اقدامات ضروری ہیں۔

معاشی ماہرین کا خیال ہے کہ حکومت کے لیے اصل چیلنج یہ ہے کہ وہ ایک طرف توانائی کے شعبے کو مالی طور پر مستحکم کرے اور دوسری طرف کمزور طبقے کو ریلیف فراہم کرے۔ ان کے مطابق ‘حقیقی امتحان توازن قائم رکھنے کا ہے’ کیونکہ کسی بھی غیر متوازن اقدام کے معاشی اور سیاسی اثرات دور رس ہو سکتے ہیں۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *