پشاور سے متصل ضلع چارسدہ کی باچا خان یونیورسٹی میں انتظامیہ کی جانب سے بعض ڈیپارٹمنٹس میں بغیر ضرورت اور نگران دور حکومت کے وقت اشتہار پر ایسے اساتذہ کو تعینات کیے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔یہ تمام تقرریاں اور تعیناتیاں ایسی جگہوں پر کی گئی ہیں جہاں نہ صرف ان کی ضرورت تھی بلکہ بعض صورتوں میں انہیں غیرقانونی بھی قرار دیا جا رہا ہے۔
اسی طرح حکومت کی جانب سے منع کیے جانے کے باوجود انتظامی عہدوں پر اساتذہ کی تعیناتیاں عمل میں لائی گئیں، اور اب معاملے کو طول دینے کے لیے انکوائری شروع کیے جانے کا امکان ہے۔
آزاد ڈیجیٹل کے پاس موجود دستاویزات کے مطابق باچا خان یونیورسٹی میں طلبہ کی تعداد تقریباً3200 ہے، جبکہ ہائیر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) کے معیار کے مطابق آرٹس کے شعبہ جات میں 30 طلبہ پر ایک استاد اور سائنس شعبہ جات میں 20 طلبہ پر ایک استاد ہونا لازمی ہے۔
مختلف شعبہ جات میں طلبہ اور اساتذہ کی تعداد
شعبہ ریاضی (میٹھمیٹکس) میں 32 طلبہ زیر تعلیم ہیں جبکہ مستقل فیکلٹی کی تعداد 6 ہے۔ شعبہ جیالوجی میں 50 طلبہ کے مقابلے میں 7 مستقل اساتذہ موجود ہیں۔ سوشیالوجی میں 62 طلبہ کے لیے 6 رکنی فیکلٹی ہے۔
شعبہ ایگریکلچر میں 67 طلبہ کے لیے 6 فیکلٹی ہے جن میں 3 پروفیسرز، 2 ایسوسی ایٹ پروفیسرز اور 1 اسسٹنٹ پروفیسر شامل ہیں۔
کیمپیوٹر سائنس میں 700 سے زائد طلبہ کے لیے 5 مستقل فیکلٹی ممبرز، شعبہ انگلش میں 321 طلبہ کے لیے 3 مستقل فیکلٹی ممبرز، زوالوجی میں 109 طلبہ کے لیے 1 مستقل ٹیچر، پولیٹیکل سائنس میں 152 طلبہ کے لیے 3 مستقل ٹیچرز، ایجوکیشن میں 128 طلبہ کے لیے 1 مستقل ٹیچر، ہیومن نیوٹریشن ڈیپارٹمنٹ میں 117 طلبہ کے لیے 2 مستقل ٹیچرز، فزکس میں 98 طلبہ کے لیے 3 ٹیچرز جبکہ آئی بی ایم میں 71 طلبہ کے لیے 11 مستقل فیکلٹی ممبرز ہیں۔
انتظامی عہدوں پر اساتذہ کی تعیناتیاں
خیبر پختونخوا یونیورسٹی ایکٹ کی شق 17 اے کے تحت فیکلٹی یعنی اساتذہ کو انتظامی عہدوں پر تعینات نہیں کیا جا سکتا، تاہم اس کے باوجود یہ عمل جاری ہے۔
اس وقت یونیورسٹی میں مختلف اہم انتظامی عہدوں پر اساتذہ اضافی چارج کے ساتھ خدمات انجام دے رہے ہیں۔ رجسٹرار کے طور پر شعبہ ایگریکلچر کے پروفیسر ڈاکٹر اکرام تعینات ہیں، جبکہ انسٹی ٹیوٹ آف بائیو ٹیکنالوجی اینڈ مائیکرو بایولوجی کے ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر سجاد بطور ٹریژرر کام کر رہے ہیں۔
کنٹرولر آف ایگزامینیشن کی ذمہ داری جیالوجی کی اسسٹنٹ پروفیسر بینش کے پاس ہے۔ ڈائریکٹر پی اینڈ ڈی کے طور پر آئی بی ایم کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر فرہاد ، ڈائریکٹر ایڈمنسٹریشن کے طور پر آئی بی ایم کے ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر شکیل ، ڈائریکٹر اوریک کے طور پر منیجمنٹ سائنس کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر کامران اور ڈائریکٹر کوالٹی کنٹرول کے طور پر شعبہ کیمسٹری کے ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر زر بادشاہ تعینات ہیں۔
اسی طرح ڈائریکٹر ایڈمیشن کے طور پر ہیلتھ نیوٹریشن کے ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر افتخار ، پرووسٹ کے طور پر کیمسٹری کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر گلاب حسین، ڈپٹی رجسٹرار کے طور پر ریاضی کے لیکچرر ڈاکٹر عمران اور ڈاکٹر آصف سلیم، جبکہ ڈائریکٹر سپورٹس کی ذمہ داری ٹیچنگ اسسٹنٹ صفدر کے پاس ہے۔ تمام اساتذہ کو یہ ذمہ داریاں اضافی چارج کے طور پر دی گئی ہیں۔
ٹیچنگ اسسٹنٹس کے کیڈر کی تبدیلی کا معاملہ
یونیورسٹی میں 16 ٹیچنگ اسسٹنٹس کی پہلی تقرری گریڈ 16 میں کی گئی تھی، جنہیں 2021 میں گریڈ 17 میں اپ گریڈ کیا گیا۔ تاہم اب ان کے کیڈر کو تبدیل کرنے کی تیاریاں کی جا رہی ہیں۔
ذرائع کے مطابق یہ معاملہ پہلے سنڈیکیٹ میں پیش کیا گیا تھا، تاہم اسے مسترد کر دیا گیا تھا۔ یاد رہے کہ قواعد کے مطابق کسی مسترد شدہ تجویز کو سال میں صرف ایک بار ایجنڈے میں شامل کیا جا سکتا ہے، لیکن اس کے باوجود مبینہ طور پر چند ماہ کے وقفے کے بعد یہی معاملہ دوبارہ ایجنڈے کا حصہ بنایا جا رہا ہے۔
ضرورت کے بغیر پروفیسرز کی تعیناتی
نگران حکومت کے دور میں مختلف آسامیوں کے لیے اشتہار جاری کیا گیا تھا، تاہم اس عمل کے لیے الیکشن کمیشن سے این او سی جاری نہیں ہوا جو ضروری سمجھا جاتا ہے۔
بعد ازاں رواں سال انہی اشتہارات کی بنیاد پر شعبہ ایگریکلچر اور سوشیالوجی میں دو پروفیسرز کی تقرری کی گئی۔ ذرائع کے مطابق بعض شعبوں میں جہاں ضرورت موجود تھی وہاں تقرری نہیں کی گئی، جبکہ سلیکشن بورڈ کے دوران شعبہ ایگری کلچر میں تعیناتی کے امیدوار پر اعتراضات بھی اٹھائے گئے اور انہیں نمبر بھی نہیں دیے گئے۔ تاہم کل تین اساتذہ کی تقرری ہوئی ہے لیکن بجٹ صرف دو کی موجود ہے۔
وائس چانسلر کا موقف
اس معاملے پر یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر خان عالم سے مؤقف لینے کے لیے رابطہ کیا گیا، تاہم انہوں نے میٹنگ میں مصروف ہونے کا کہہ کر جواب دینے سے گریز کیا۔