ملک بھر میں بجلی کے بلوں میں فکسڈ چارجز کے نفاذ پر عوام میں شدید ردعمل دیکھنے میں آ رہا ہے۔ شہریوں، تاجر تنظیموں اور سماجی نمائندوں نے اس اقدام کو مہنگائی کے ستائے عوام پر اضافی بوجھ قرار دیتے ہوئے حکومت سے فوری نظرثانی کا مطالبہ کیا ہے۔
تفصیلات کے مطبق شہریوں کا بجلی بلوں میں فکسڈ چارجز کے حولاے سے کہنا ہے کہ بجلی کے نرخ پہلے ہی مسلسل بڑھ رہے ہیں، اور فکسڈ چارجز کے نفاذ سے کم استعمال کرنے والے صارفین پر بھی اضافی مالی دباؤ پڑے گا۔ ناقدین کے مطابق یہ فیصلہ خصوصاً متوسط اور کم آمدنی والے طبقے پر سب سے زیادہ اثر انداز ہوگا۔
دوسری جانب حکومتی ذرائع کا مؤقف ہے کہ یہ اقدام توانائی کے شعبے میں مالی خسارے پر قابو پانے اور نظام کی بہتری کے لیے ناگزیر ہے۔ حکام نے بتایا کہ پالیسی کا مقصد توانائی کے شعبے کو مستحکم بنانا اور طویل مدتی استحکام یقینی بنانا ہے۔
ماہرین معاشیات کا کہنا ہے کہ کسی بھی نئی مالی پالیسی کے نفاذ سے قبل اس کے سماجی اثرات کا جائزہ لینا ضروری ہے تاکہ عوامی اعتماد برقرار رہے۔ عوام نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کے بعد متوازن اور قابل قبول حل پیش کرے۔
شہریوں اور تاجر تنظیموں کا کہنا ہے کہ کم بجلی استعمال کرنے والے بھی اب بھاری رقم دینے پر مجبور ہوں گے، یہ سراسر ناانصافی ہے۔ دوسری جانب حکام کا دعویٰ ہے کہ توانائی کے شعبے کا خسارہ کم کرنے اور نظام کی بہتری کے لیے یہ کڑوی گولی نگلنا ناگزیر ہے۔
معاشی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ عوام پر پہلے ہی بوجھ بہت زیادہ ہے، حکومت کو اس پالیسی پر فوری نظرثانی کرنی چاہیے۔ مطالبہ: عوام اور اسٹیک ہولڈرز نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ فکسڈ چارجز کا فیصلہ واپس لے کر کوئی متوازن حل نکالا جائے۔