یونیورسٹی آف آکسفورڈ کے محققین نے حال ہی میں ویڈیو گیمز کے کھلاڑیوں پر اثرات کا ایک تفصیلی سائنسی مطالعہ مکمل کیا ہے، جس میں بتایا گیا ہے کہ ویڈیو گیم کھیلنا بذاتِ خود بچوں اور بالغوں کے لیے نقصان دہ نہیں ہوتا بلکہ بعض صورتوں میں اس کے مثبت اثرات بھی سامنے آ سکتے ہیں۔
عالمی ادارہ صحت نے ’گیمنگ ڈس آرڈر‘ کو لت آمیز رویہ قرار دیا ہے اور گیمنگ کی لت کو بیماری کے طور پر درجہ بند کیا ہے تاہم اس سے پہلے کوئی ایسی تحقیق موجود نہیں تھی جس میں گیمنگ انڈسٹری کے اصل ڈیٹا اور صارفین کے رجحانات کو مدِنظر رکھا گیا ہو۔
یونیورسٹی آف آکسفورڈ کی تحقیق میں 3 ہزار بالغ کھلاڑیوں کے دو مختلف گیمز میں کھیلنے کے وقت اور ذہنی خوش حالی کے درمیان معمولی مگر مثبت تعلق دریافت کیا گیا ہے۔
محققین کا کہنا ہے کہ گیم کھیلنے کے دوران مہارت کا احساس اور دوسروں کے ساتھ سماجی تعلقات ذہنی صحت اور خوش حالی میں اضافے کا باعث بن سکتے ہیں ، وہ افراد جو کھیل سے لطف اندوز ہوتے ہیں، ان میں مثبت ذہنی کیفیت کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔
تحقیق کی رپورٹ میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ ویڈیو گیمز کو صرف وقت کی بنیاد پر محدود کرنا ممکنہ طور پر وہ فوائد حاصل نہیں کروا پاتا جن کی توقع کی جاتی ہے , چونکہ یہ مطالعہ دو گیمز اور محدود تعداد میں کھلاڑیوں تک محدود تھا، اس لیے اس نتیجے کو عمومی طور پر نافذ کرنا مشکل ہے۔
محققین نے یہ سوال بھی اٹھایا ہے کہ کیا ویڈیو گیمز کے بارے میں پائی جانے والی اخلاقی گھبراہٹ محض مبالغہ آرائی تو نہیں، کیونکہ ان کے نتائج نے روایتی خدشات کو چیلنج کرتے ہوئے گیمنگ کے ممکنہ فوائد کو بھی اجاگر کیا ہے۔
یہ تحقیق ویڈیو گیمز پر مبنی بحث کو ایک نیا زاویہ فراہم کرتی ہے اور والدین، اساتذہ اور پالیسی سازوں کے لیے بھی اہم رہنمائی ثابت ہو سکتی ہے کہ گیمزکا معتدل استعمال ذہنی صحت پر مثبت اثرات مرتب کر سکتا ہے۔