پنجاب اسمبلی کے باہر سرکاری ملازمین کا دھرنا ، پولیس نے گھیر لیا

پنجاب اسمبلی کے باہر سرکاری ملازمین کا دھرنا ، پولیس نے گھیر لیا

آل گورنمنٹ ایمپلائز گرینڈ الائنس کے زیر اہتمام سرکاری ملازمین نے پنجاب اسمبلی کے باہر احتجاجی دھرنا دے دیا جس میں ملازمین نے صوبائی بجٹ میں اپنے مطالبات شامل کرنے کا مطالبہ کیا۔

احتجاج میں شریک ملازمین کا کہنا تھا کہ موجودہ مہنگائی کے دور میں سرکاری ملازمین کو شدید مالی مشکلات کا سامنا ہے اس لیے تنخواہوں، پنشن اور مختلف مراعات میں خاطر خواہ اضافہ ناگزیر ہو چکا ہے۔

مظاہرین نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں 100 فیصد اضافہ کیا جائے تاکہ بڑھتی مہنگائی کے اثرات کو کم کیا جا سکے ان کا کہنا تھا کہ موجودہ مراعات روزمرہ اخراجات پورے کرنے کے لیے ناکافی ہیں۔

احتجاجی ملازمین نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ تمام سابقہ ایڈہاک ریلیف الاؤنسز کو بنیادی تنخواہوں میں ضم کیا جائے تاکہ ان کا فائدہ آئندہ تنخواہوں، پنشن اور دیگر مالی معاملات میں بھی شامل ہو سکے۔

یہ بھی پڑھیں:بجٹ میں گھی ،کراکری، شیمپو،جوتے ،مٹھایاں،مصالحے اور36 گھریلو اشیاء کون سی مہنگی ہوئیں،تفصیلات آگئیں

مظاہرین نے لیو انکیشمنٹ اور پنشن رول 17 اے کی بحالی کا مطالبہ بھی کیا۔ ان کا مؤقف تھا کہ ماضی میں دی گئی سہولیات ملازمین کا حق ہیں اور ان کی بحالی ضروری ہے۔

آل گورنمنٹ ایمپلائز گرینڈ الائنس کے رہنماؤں نے میڈیکل، ہاؤس رینٹ اور کنوینس الاؤنس میں بھی 100 فیصد اضافے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ مہنگائی کے باعث سرکاری ملازمین شدید دباؤ کا شکار ہیں۔

مظاہرین کا کہنا تھا کہ جب تک حکومت ان کے مطالبات تسلیم نہیں کرتی احتجاج اور دھرنا جاری رکھا جائے گا۔ انہوں نے حکومت سے اپیل کی کہ آئندہ مالی سال کے بجٹ میں ملازمین کے مسائل کے حل کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں۔

احتجاج کے باعث پنجاب اسمبلی کے اطراف سیکیورٹی انتظامات بھی بڑھا دیے گئے جبکہ حکام کی جانب سے صورتحال کو معمول پر رکھنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

editor

Related Articles