معطل سرکاری ملازم مکمل تنخواہ اور مراعات کا حقدار قرار، سپریم کورٹ نے ایف بی آر کی اپیل خارج کردی

معطل سرکاری ملازم مکمل تنخواہ اور مراعات کا حقدار قرار، سپریم کورٹ نے ایف بی آر کی اپیل خارج کردی

سپریم کورٹ نے معطل سرکاری ملازم کو پوری تنخواہ اور مراعات کا حقدار قرار دیا ہے، معطلی ملازمت سے برطرفی، خاتمہ یا علیحدگی نہیں ہے۔

سپریم کورٹ نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی اپیل خارج کرتے ہوئے وفاقی سروس ٹربیونل کا فیصلہ برقرار رکھا ہے اور قرار دیا کہ معطلی کے دوران سول سروس ملازم اپنے عہدے پر برقرار رہتا ہے چاہے ڈیوٹی نہ کر رہا ہو۔

سپریم کورٹ میں سورت المائدہ کا حوالہ دیتے کہا گیا کہ اللہ تعالیٰ کا حکم ہے،اے ایمان والو، اپنے معاہدوں کو پورا کرو ، قانونی اجازت کے بغیر ملازم کی تنخواہ روکنا تقرری کی شرائط کے منافی ہے، معطل ملازم کو مکمل تنخواہ اور فوائد سے محروم کرنا ناانصافی اور ظلم ہے۔

یہ بھی پڑھیں : طلبہ اور والدین کیلئے اہم خبر ! رمضان المبارک میں سکولوں کے اوقات کار کا اعلان

عدالت نے فیصلے میں کہا کہ اسلام معاہدوں کی پاسداری اور جائز کمائی کے تحفظ کا حکم دیتا ہے، فیصلے سے قبل مالی محرومی سزا کے مترادف ہے، معطلی کی مدت کے دوران ملازم سے کسی بھی قسم کی ریکوری غیر قانونی ہے۔

فیصلے میں حدیث نبوی مزدور کو اس کا پسینہ سوکھنے سے پہلے مزدوری دو کا حوالہ بھی دیا گیا ہے ۔

واضح رہے کہ فریق ارشد حسین ایف بی آر میں ملازم تھے، میڈیکل بورڈ نے بیماری کے باعث سروس کیلئےان فٹ قرار دیا تھا، محکمے نے ملازم کو جبری ریٹائر کر کے معطلی کے دوران ادا کی گئی رقم واپس مانگی تھی۔

  ٹریبونل نے فیصلہ دیا تھا ملازم معطلی کے دورانیے کی مکمل تنخواہ اور الاؤنسز حاصل کرنے کا حقدار ہے۔

editor

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *