کابل میں افغان وزارتِ دفاع کے اندر مسلح تصادم؛ پاکستان کے فضائی حملوں کے بعد طالبان قیادت میں دراڑیں پڑ گئیں

کابل میں افغان وزارتِ دفاع کے اندر مسلح تصادم؛ پاکستان کے فضائی حملوں کے بعد طالبان قیادت میں دراڑیں پڑ گئیں

پاکستان کی جانب سے کابل اور قندھار میں حالیہ مؤثر فضائی کارروائیوں کے بعد افغان طالبان رجیم کے اندرونی اختلافات شدت اختیار کر گئے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق کابل میں واقع افغان وزارتِ دفاع کی عمارت کے اندر طالبان کے مختلف گروہوں کے درمیان مبینہ طور پر مسلح لڑائی چھڑ گئی ہے، جس نے کابل کے اقتدار کے گلیاروں میں کھلبلی مچا دی ہے۔

ذرائع کے مطابق یہ اندرونی خلفشار پاکستان کے ان فضائی حملوں کا نتیجہ ہے جن میں طالبان کے دو بریگیڈ ہیڈ کوارٹرز اور اہم ملٹری تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ ان حملوں کے بعد عسکری حکمتِ عملی اور جوابی کارروائی کے معاملے پر وزارتِ دفاع کے اندر موجود مختلف دھڑوں میں تلخ کلامی ہوئی جو مسلح تصادم کی شکل اختیار کر گئی۔

مزید پڑھیں: پاک فوج کے جوابی حملے میں افغان وزیر تعلیم ندا محمد ندیم ہلاک

اگرچہ تاحال لڑائی میں ملوث مخصوص گروہوں کی شناخت اور جانی نقصان کی قطعی تفصیلات سامنے نہیں آسکیں، تاہم کابل سے ملنے والی اطلاعات بتاتی ہیں کہ وزارتِ دفاع کی عمارت کے اندر صورتحال انتہائی کشیدہ ہے۔

دفاعی ماہرین اس صورتحال کو پاکستان کے “سرجیکل اسٹرائیکس” کا نفسیاتی اثر قرار دے رہے ہیں، جس نے طالبان رجیم کے کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔

editor

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *