آپریشن غضب للحق : پاکستان کیجانب سے افغان طالبان کی بلااشتعال جارحیت کا منہ توڑ جواب ، اہم چیک پوسٹیں تباہ

آپریشن غضب للحق : پاکستان کیجانب سے افغان طالبان کی بلااشتعال جارحیت کا منہ توڑ جواب ، اہم چیک پوسٹیں تباہ

پاکستان افغان سرحدی پٹی پر افغان طالبان رجیم کی جانب سے بلااشتعال فائرنگ اور جارحیت کے جواب میں پاکستانی سکیورٹی فورسز نے بھرپور اور موثر کارروائی کی ہے ۔

افغان طالبان کی جانب سے بلا اشتعال فائرنگ کے بعد پاک افغان سرحد پر شدید کشیدگی برقرار ہے ، آپریشن غضب للحق کے تحت پاکستان کی جانب سے مختلف حصوں میں جوابی کارروائیاں جاری ہیں ۔

وزارت اطلاعات کے مطابق پاکستان نے کابل، پکتیا اور قندھار میں افغان طالبان کے دفاعی اہداف کو نشانہ بنایا جس میں دشمن کی 27 تنصیبات تباہ اور 9 پر قبضہ کر لیا گیا۔

آپریشن غضب للحق میں 133 سے زائد افغان طالبان جہنم وآصل ہوئے جبکہ جدید ڈرونز کے ذریعے افغان طالبان رجیم کی پوسٹوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے ، حکام کا کہنا ہے کہ سرحد کی خلاف ورزی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی ، اس ضمن میں  سرحدی دفاع کو مزید مضبوط بناتے ہوئے کسی بھی ممکنہ دراندازی کا راستہ بھی روک دیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : طالبان ترجمان جنگ شروع کرنے کا دعوی کرنے کے بعد ٹویٹ ڈیلیٹ کر کے فرار

متعدد اضلاع میں زمینی جھڑپیں بھی رپورٹ ہوئیں جن کی تفصیلات درج ذیل ہیں۔

پاکستان کی سکیورٹی فورسز کی جانب سے چھوٹے اور بڑے ہتھیاروں کا مؤثر استعمال کرتے ہوئے دشمن کے ٹھکانوں پر گولہ باری کی گئی ہے۔

خیبر میں لنڈی کوتل، بازار زخہ خیل اور تیراہ میں شدید فائرنگ  جہاں توپوں اور کواڈکوپٹر کے ذریعے افغان طالبان کی چوکیوں کو نشانہ بنایا گیا۔

باجوڑ میں نووا پاس اور ناوگئی سیکٹرمیں بھی دشمن کی اہم چوکیاں مکمل طور پر نیست و نابود کر دی گئیں، پاک فوج نے نوواپاس میں ٹی ٹی اے کی چوکیوں پر قبضہ کر کے آگے کی پوزیشنوں پر ٹیکٹیکل کنٹرول کو مضبوط کیا۔

  مہمند کے طور خیل، گورسل اور گرسال گیٹ سیکٹرز میں بھی افغان طالبان کی متعدد چیک پوسٹیں تباہ کر دی گئیں، اس میں30  کے قریب افغان اہلکار مارے گئے۔

کرم کے شورکو اور خارلاچی سیکٹرز اور چترال کے ارندو سیکٹر میں بھی جھڑپیں جاری رہیں۔

جنوبی وزیرستان کے شوال سیکٹر میں پاکستانی فوج نے پاکتیکا صوبے کے قریب پانچ افغان پوسٹوں پر قبضہ کرکے پاکستانی پرچم لہرادیا۔

طورخم کے قریب افغان چیک پوسٹیں تباہ کی گئیں، اس کے ساتھ ساتھ  پاک فوج نے مؤثر کارروائی کے دوران انگور اڈہ کا افغانی ٹرمینل بھی تباہ کر دیا۔

سکیورٹی ذرائع کے مطابق پاکستانی جوابی کارروائی کے سامنے دشمن کے قدم اکھڑ گئے اور وہ اپنے زخمیوں اور اسلحے کو چھوڑ کر پہاڑوں کی اوٹ میں چھپنے پر مجبور ہو گئے۔

پاک فضائیہ کی بھرپور فضائی کارروائیاں

افغان طالبان حکومت نے تصدیق کی ہے کہ کابل، قندھار، اور پکتیا کے علاقے گردیز پر پاکستانی طیاروں نے بمباری کی ہے لیکن فوری طور پر ہلاکتوں کی اطلاعات نہیں ہیں ، اس حوالے سے عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ کابل کے 16 ضلع میں گل بہار ٹاور پر ایک گاڑی پرحملہ ہوا ۔

پاکستانی حکام نے بتایا کہ صوبہ ننگرہار کے جلال آباد میں جیٹ طیارے تعینات کیے گئے تھے جس میں گولہ بارود کے ڈپو پر حملے سمیت  قندھار اور کابل میں کمانڈ تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ کابل میں کئی اہم تنصیبات  کو بھی نشانہ بنایا گیا۔

مقامی لوگوں کے لیے ہدایات

حکام نے اگلے 72 گھنٹوں کے دوران سرحد کے قریب اضلاع میں محتاط رہنے  اور کسی بھی غیر ضروری سفر سے گریز کرنے کی ہدایت کی ہے ۔

editor

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *