پاک افغان کشیدگی: کابل کا دوحہ سے رابطہ, کشیدگی کم کرنے میں کردار کی اپیل

پاک افغان کشیدگی: کابل کا دوحہ سے رابطہ, کشیدگی کم کرنے میں کردار کی اپیل

پاکستان کی جانب سے حالیہ بھرپور جوابی فوجی کارروائیوں اور “آپریشن غضب للحق” کے نتیجے میں ہونے والے بھاری نقصان کے بعد افغان طالبان ریجیم نے سفارتی محاذ پر کوششیں تیز کر دی ہیں۔

تازہ ترین اطلاعات کے مطابق افغانستان کے نگراں وزیر خارجہ مولوی امیر خان متقی نے قطر کے وزیر مملکت برائے خارجہ امور سے ٹیلیفونک رابطہ کیا ہے تاکہ خطے میں پیدا ہونے والی سنگین کشیدگی کو کم کیا جا سکے۔

قطر کی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ بیان میں اس رابطے کی تصدیق کی گئی ہے۔ اعلامیے کے مطابق گفتگو کا محور پاک افغان سرحد پر جاری حالیہ کشیدگی کو کم کرنے کے ممکنہ طریقے اور خطے میں پائیدار امن و استحکام کا قیام تھا۔ مولوی امیر خان متقی نے اس موقع پر قطر کی قیادت کو موجودہ صورتحال اور کابل کے موقف سے آگاہ کیا۔

قطری وزیر مملکت نے گفتگو کے دوران دوحہ کے اس دیرینہ موقف کا اعادہ کیا کہ قطر علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر تمام تنازعات کو پرامن مذاکرات اور سفارتی ذرائع سے حل کرنے کا حامی ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ قطر خطے میں پائیدار امن کو مستحکم کرنے کے لیے اپنی مکمل حمایت جاری رکھے گا اور کسی بھی ایسے اقدام کی تائید کرے گا جو خون ریزی کو روکنے اور استحکام لانے میں معاون ثابت ہو۔

مزید پڑھیں:پاک افغان سرحدی کشیدگی: خیبر پختونخوا میں اینٹی ڈرون سسٹمز فعال، سکیورٹی ہائی الرٹ

دفاعی ماہرین اس رابطے کو پاکستان کی حالیہ فوجی برتری اور طالبان ریجیم پر بڑھتے ہوئے دباؤ کا نتیجہ قرار دے رہے ہیں، جہاں کابل اب اپنی گرتی ہوئی دفاعی پوزیشن کو بچانے کے لیے قطر جیسے بااثر ثالث ممالک کی مدد حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

editor

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *