اسرائیل کی جانب سے ایران پر حالیہ حملے کے بعد خطے میں کشیدگی شدت اختیار کر گئی ہے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق تہران میں متعدد دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں اور بعض میزائل ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے دفتر کے قریب گرے۔ ایرانی دارالحکومت کے حساس علاقوں میں سیکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی ہے جبکہ امدادی ادارے متاثرہ مقامات پر متحرک ہیں۔
بین الاقوامی خبر رساں ادارے رائٹرز نے اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کو احتیاطی تدابیر کے تحت پیشگی محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے اور وہ اس وقت ایران میں موجود نہیں ہیں۔ تاہم ایرانی حکام کی جانب سے اس حوالے سے باقاعدہ اور تفصیلی سرکاری بیان جاری نہیں کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق یہ اقدام سیکیورٹی خطرات کے پیش نظر اٹھایا گیا۔
حملے کے بعد تہران کے مختلف علاقوں سے دھواں اٹھ رہا ہے جبکہ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیوز میں دھماکوں کے مناظر دکھائے گئے ہیں۔ ایرانی سرکاری میڈیا نے بعض دھماکوں کی تصدیق کی ہے لیکن نقصانات اور ہدف بنائے گئے مقامات کی مکمل تفصیل تاحال سامنے نہیں آئی۔
دوسری جانب اسرائیلی حکام کی جانب سے کارروائی کی نوعیت اور اہداف کے بارے میں محدود معلومات فراہم کی گئی ہیں۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر سپریم لیڈر کے دفتر کے قریب حملہ ہوا ہے تو یہ دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں ایک خطرناک موڑ ثابت ہو سکتا ہے۔