امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر متعدد حملوں کے بعد مشرق وسطیٰ میں کشیدگی انتہائی خطرناک حد تک بڑھ گئی ہے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق تہران اور دیگر بڑے شہروں میں دھماکوں اور میزائلوں سے حملہ کیا گیا جس میں صدارتی محمل اور سرکاری دفاتر کو نشانہ بنایا گیا۔ ایرانی حکام نے فوری ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ وہ ان حملوں کا بھرپور اور “انتہائی تباہ کن” جواب دیں گے۔
ایرانی سرکاری ذرائع کے مطابق اس جوابی کارروائی میں امریکی تنصیبات اور اسرائیل کو براہ راست نشانہ بنایا جائے گا۔ ایرانی فوج نے ہائی الرٹ جاری کر دیا ہے اور سرکاری میڈیا پر کہا گیا ہے کہ ایران اپنی قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے ہر ممکن قدم اٹھائے گا۔
ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی قیادت میں فوجی حکمت عملی تیار کی جا رہی ہے اور انہوں نے ملکی افواج کو فوری تیاری کی ہدایات جاری کی ہیں۔
بین الاقوامی خبر رساں ادارے رائٹرز نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ ایران کی جانب سے جوابی حملے کے خدشات کے باعث عالمی برادری میں تشویش بڑھ گئی ہے۔
امریکی حکام نے ایران کے ممکنہ ردعمل کو سنجیدہ لیتے ہوئے خطے میں اپنی فورسز اور تنصیبات کے تحفظ کے لیے حفاظتی اقدامات کو مزید سخت کر دیا ہے۔ اسرائیل نے بھی اپنے شہریوں کو محتاط رہنے اور ممکنہ حملوں سے بچاؤ کے لیے احتیاطی ہدایات جاری کی ہیں۔