موجودہ قومی اسمبلی نے قانون سازی کے حوالے سے ایک نیا ریکارڈ قائم کر دیا ہے۔ فروغِ جمہوریت اور شفافیت کے قومی ادارے پلڈاٹ نے قومی اسمبلی کے ختم ہونے والے دوسرے پارلیمانی سال کی کارکردگی پر تفصیلی جائزہ رپورٹ جاری کی ہے، جس میں بتایا گیا ہے کہ موجودہ اسمبلی نے حالیہ برسوں میں کام کرنے والی تمام اسمبلیوں میں سب سے زیادہ قانون سازی کی۔
رپورٹ کے مطابق حالیہ پارلیمانی سال میں پریس میں آرڈیننس پر انحصار بھی کم ہوا اور اسمبلی نے مجموعی طور پر 231 گھنٹے طویل نشستوں کے ساتھ قانون سازی کے لیے کام کیا، جو گزشتہ سال کے 193 گھنٹوں سے کافی زیادہ ہے۔
رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ 16 ویں قومی اسمبلی کا دوسرا پارلیمانی سال یکم مارچ 2025 سے 28 فروری 2026 تک جاری رہا۔ اس دوران اسمبلی نے کل 84 اجلاس بلائے جبکہ پہلے پارلیمانی سال میں 93 اجلاس منعقد ہوئے تھے، جو تقریباً 9.7 فیصد کی کمی کو ظاہر کرتا ہے۔ قانون سازی کے دوران اراکین اسمبلی کے اثاثے خفیہ رکھنے اور عوامی رسائی سے روکنے کا نیا قانون بھی پاس کیا گیا۔
اجلاسوں میں رکن اسمبلی خواجہ آصف سب سے زیادہ بولنے والے رکن رہے جبکہ ڈاکٹر طارق فضل چوہدری، بلاول بھٹو زرداری، عمرا یوب اور بیرسٹر گوہر نے بھی طویل تقریروں کا ریکارڈ بنایا۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ اپوزیشن لیڈر کا عہدہ تقریباً پانچ ماہ خالی رہا اور اس دوران 19 مرتبہ کورم کی نشاندہی ہوئی۔ وزیراعظم شہباز شریف نے 84 اجلاسوں میں سے صرف چھ میں شرکت کی۔
پلڈاٹ کی رپورٹ کے مطابق موجودہ اسمبلی کی قانون سازی کی کارکردگی نہ صرف گزشتہ اسمبلیوں کے مقابلے میں نمایاں ہے بلکہ یہ پارلیمانی تاریخ میں ایک نیا معیار بھی قائم کرتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ طویل نشستیں اور فعال اراکین کی شرکت قانون سازی کے عمل کو مؤثر بنانے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے، تاہم اجلاسوں کی کمی اور بعض اعلیٰ عہدوں کی غیر فعال موجودگی بھی بعض معاملات میں توجہ طلب ہے۔
موجودہ قومی اسمبلی کی اس کارکردگی کو ملکی جمہوری عمل میں ایک مثبت پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، خاص طور پر ایسے قوانین کی منظوری کے حوالے سے جو شفافیت، احتساب اور اراکین کے اثاثوں کی عوامی رسائی سے متعلق ہیں۔