تل ابیب میں خفیہ بیٹھک کا بھانڈا پھوٹ گیا، مودی، ہیبت اللہ اور نیتن یاہو کا گٹھ جوڑ، ایران پر حملے کی کڑی، عالمی منصوبہ منظر عام پر آگیا

تل ابیب میں خفیہ بیٹھک کا بھانڈا پھوٹ گیا، مودی، ہیبت اللہ اور نیتن یاہو کا گٹھ جوڑ، ایران پر حملے کی کڑی، عالمی منصوبہ منظر عام پر آگیا

مشرقِ وسطیٰ اور جنوبی ایشیا کی بدلتی ہوئی صورتحال کے تناظر میں ایک بار پھر خطے میں خفیہ سفارتی صف بندیوں سے خطے کو عدم استحکام کی طرف دھکیلنے سے متعلق سنگین اور خطرناک دعوے سامنے آ رہے ہیں۔

ذرائع کی جانب سے یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ بھارت، اسرائیل اور افغان عبوری قیادت کے درمیان ایک ایسی غیر اعلانیہ منصوبہ بندی ہوئی ہے جس کا مقصد خطے کو افراتفری اور کشیدگی کی جانب دھکیلنا اورمسلم ممالک کو آپس میں لڑانا تھا ۔

یہ بھی پڑھیں:ایران کا اسرائیل پر بیلسٹک میزائلوں سے جوابی حملہ، آپریشن کو ’فتح خیبر‘ کا نام دے دیا

واضح رہے کہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی، افغانستان کے سپریم لیڈر ہیبت اللہ اخونزادہ اور اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے درمیان مبینہ طور پر تل ابیب میں ایک خفیہ مشاورت ہوئی ہے۔ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ اس مشاورت میں پاکستان کو افغانستان اور بھارت کے ذریعے مصروف رکھنے اور اسی دوران ایران کے خلاف اسرائیلی کارروائی کے امکانات پر گفتگو کی گئی ہے۔

واضح رہے کہ جارحانہ عزائم رکھنے والے ان 3 ممالک کی حکمت عملی کھل سامنے آ چکی ہے جس کے اثرات نہایت خطرناک ہو سکتے ہیں۔ پاکستان جغرافیائی طور پر ایک اہم ملک ہے جو ایران اور افغانستان دونوں کے ساتھ سرحد رکھتا ہے، ایسے میں کسی بھی کشیدگی کا براہ راست اثر پورے خطے سے زیادہ پاکستان پر پڑ سکتا ہے۔

واضح رہے کہ ماضی میں بھی بھارت اور اسرائیل کے دفاعی تعاون پر بحث ہوتی رہی ہے، جبکہ بھارت اور ایران کے درمیان توانائی، بندرگاہی اور تجارتی منصوبے بھی عالمی توجہ کا مرکز رہے ہیں۔

حالیہ سرحدی کشیدگی، خصوصاً 26 اور 27 فروری کو پاکستانی سرحدی علاقوں میں ہونے والے حملوں کے بعد صورتحال مزید حساس ہو گئی ہے۔ پاکستانی حکام کے مطابق ان جھڑپوں میں بڑی تعداد میں شدت پسند مارے گئے، جبکہ سیکیورٹی فورسز نے اپنی پوزیشن مستحکم رکھی۔ بعض حلقے ان واقعات کو ایک وسیع تر علاقائی تناظر میں دیکھ رہے ہیں۔

مزید پڑھیں:سعودی عرب، دبئی، ابوظہبی ، بحرین، کویت ، قطر، عراق میں امریکی تنصیبات پر ایران کے میزائل حملے شروع

افغان طالبان کی حالیہ سرگرمیوں کو بھی بعض مبصرین عالمی طاقتوں کے مفادات سے جوڑ کر دیکھ رہے ہیں۔پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ ملک کی خودمختاری اور سرحدی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور خطے میں امن و استحکام کے لیے سفارتی اور دفاعی دونوں سطحوں پر اقدامات جاری رہیں گے۔ ایران کے ساتھ تاریخی، مذہبی اور ثقافتی روابط کا حوالہ دیتے ہوئے یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ پاکستان خطے میں توازن اور امن کا خواہاں ہے۔

عالمی سطح پر اب یہ سوال ضرور زیر بحث ہے کہ جنوبی ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کی سیاست کس سمت جا رہی ہے، اور کیا واقعی کوئی نئی صف بندی تشکیل پا رہی ہے؟۔ آیا بھارت اسرائیل اور افغانستان کے ساتھ مل کر پاکستان کے خلاف کوئی کھیل تو نہیں کھیل رہا ہے، ان سوالات کا جواب آنے والا وقت ہی بتائے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *