پاکستان معاملے میں نہ پڑتا تو مسلم دنیا میں یہ جنگ کون رکوا سکتا تھا؟سیکورٹی ذرائع

پاکستان معاملے میں نہ پڑتا تو مسلم دنیا میں یہ جنگ کون رکوا سکتا تھا؟سیکورٹی ذرائع

اعلیٰ سیکورٹی ذرائع نے صحافیوں سے اعلیٰ بریفنگ میں کہا ہے کہ مذاکرات اور امن معاہدے میں پاکستان کا متمطع نظر اور اہداف دو تھے پاکستان کے پڑوس اور خطے میں امن اور مسلم ممالک کے درمیان تناؤ کم کرنا، پاکستان نے اس حوالے سے اخلاص اور سنجیدگی سے کوشش کی۔

فیلڈ مارشل عاصم منیر نے مدبرانہ اور صبر آزما کوششوں سے یہ جنگ بغیر لڑے جیتی ہے،ہمیں اللہ سے امید ہے کہ اللہ ہمارے اخلاص کا اچھا بدلہ دیگا،آج ہم جہاں  ہیں وہ اللہ کی مدد سے ہوا قطر اور سعودی قیادت کی حکمت اور صبر بھی قابل ستائش ہے ترکی اور مصر نے جو اقدامات لئے وہ بھی اہم ہیں۔

پاکستان ہمیشہ سے سفارتی و سیکورٹی تعاون اور ملٹری ڈپلومیسی پر یقین رکھتا ہے ،ہر ملک سے ہر مرحلے پر اچھے تعلقات کے لئے پاکستان سیاسی قیادت کی رہنمائی میں مثبت اقدامات لیتا ہے۔

پاکستان کے ہر ملک سے تعلقات کسی دوسرے ملک کی پالیسی سے بالکل آزاد ہوتے ہیں.اسے ہی آزاد اور کثیر الہجہت سفارت کاری کہتے ہیں.سفارتی محاذ پر وسعت قلب اور بعید نظری سے معاملات چلتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں :فیلڈ مارشل کو دنیا ویسے ہی فائٹر نہیں کہتی، یہ بہت کلیئر ہے کہ کیسے جواب دینا ہے،سیکورٹی ذرائع

سیکورٹی ذرائع کا مزید کہنا تھا کہ کشمیر تکمیلِ پاکستان کا نامکمل حصہ ہے.1948 میں لڑی جانے والی جنگ پاکستان فوج کشمیریوں اور قبائل نے لڑی. کشمیر پر اب تک 5 جنگیں ہوچکی ہیں کشمیر میں ایک ہی نعرہ کشمیر بنے گا پاکستان مقبوضہ کشمیر سے نعرہ آتا ہے ہم پاکستانی ہیں پاکستان ہمارا ہے۔

مقبوضہ کشمیر میں نام نہاد ترقی اور سبسڈی مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں کے جذبات کو خرید سکتی ہیں؟کیا آبادی کے تناسب کو تبدیل کرنے کی کوشش اور قانونی  ڈالنے  کی کوشش وہاں کے مسلمانوں کے حق خود ارادیت کو ختم کرسکتے ہیں؟۔

اس وقت مقبوضہ کشمیر دنیا کی سب بڑی فوجی چھاؤنی ہے، وادی کے لوگ اضطراب کا شکار ہیں لیکن وہ اب بھی اس پوری طرح تیار اور یکسو ہیں کہ کشمیر کا حل بھارت کے پاس نہیں ہے اسلئے بھارت آزاد کشمیر میں آگ لگانے کی کوشش کررہا یے۔

نام نہاد حقوق کی تحریک کے پیچھے جو مذموم مقاصد اور اسکا اصل چہرہ ہے وہ اب عیاں ہوچکا ہے،پاکستان کی قیادت کی اولین ترجیح بات چیت اور مذاکرات ہوتے ہیں۔پاکستان کی قیادت نے دو سال سے کشمیر میں مذاکرات کئے، جو سہولیات مانگی دے دیں، جو کچھ سستا مانگا دیا گیااور

اب مظاہرین میں چُھپے کئی کردار اور انکے اصل مقاصد کُھل کر سامنے آچکے ہیں. جب انکا اصل چہرہ عیاں ہوچکا ہے تو ان سے نمٹا بھی اُسی طریقے سے جائے گا۔

editor

Related Articles