مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی نے ایک بار پھر خطرناک رخ اختیار کر لیا ہے، ہفتہ کی صبح اسرائیل نے امریکا کی حمایت کے ساتھ ایران پر فضا اور سمندر دونوں اطراف سے میزائل حملوں کا آغاز کر دیا ہے۔ علاقائی میڈیا کے مطابق مختلف ایرانی شہروں میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں اور کئی مقامات پر دھویں کے بادل اٹھتے دیکھے گئے۔
اسرائیلی اخبار یروشلم پوسٹ کے مطابق اسرائیلی حکومت نے اپنے شہریوں کو فوری طور پر محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایت جاری کی ہے۔ ملک بھر میں دفاتر اور تعلیمی ادارے بند کر دیے گئے ہیں جبکہ عوامی اجتماعات پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔
تہران اور دیگر شہروں کی صورتحال
ایرانی خبر رساں ادارے فارس نیوز ایجنسی کے مطابق دارالحکومت تہران میں یونیورسٹی اسٹریٹ کے علاقے سے دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس علاقے کو متعدد میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا۔
ایرانی میڈیا کے مطابق دیگر شہروں میں بھی دھویں کے بادل دیکھے گئے اور ایمرجنسی سروسز کو متحرک کر دیا گیا ہے۔ تاہم فوری طور پر جانی یا مالی نقصان کی مکمل تفصیلات سامنے نہیں آ سکیں۔
اسرائیل میں ہائی الرٹ
ادھر اسرائیل میں بھی خطرے کے سائرن بجنے کی اطلاعات ہیں۔ حکام نے ممکنہ ایرانی جوابی حملوں کے خدشے کے پیش نظر ملک بھر میں ایمرجنسی نافذ کر دی ہے۔ شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ غیر ضروری نقل و حرکت سے گریز کریں اور حفاظتی ہدایات پر سختی سے عمل کریں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیل کے متعدد شہروں میں پناہ گاہوں کو فعال کر دیا گیا ہے جبکہ سیکیورٹی فورسز کو ہائی الرٹ پر رکھا گیا ہے۔
سرکاری مؤقف اور ممکنہ اثرات
اسرائیلی وزیر دفاع نے ایران پر حملے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدام قومی سلامتی کے پیش نظر کیا گیا۔ دوسری جانب ایران کی جانب سے باضابطہ اور تفصیلی ردعمل کا انتظار ہے، تاہم سرکاری میڈیا میں سخت بیانات سامنے آ رہے ہیں۔
واضح رہے کہ اگر ایران کی جانب سے بھرپور جوابی کارروائی کی گئی تو خطے میں وسیع پیمانے پر تصادم کا خدشہ بڑھ سکتا ہے۔ اس صورتحال نے عالمی برادری کو بھی تشویش میں مبتلا کر دیا ہے اور سفارتی سطح پر ہنگامی رابطوں کی اطلاعات ہیں۔
ادھر قطری نشریاتی ادارے الجزیرہ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران پر حالیہ حملے کا منصوبہ اسرائیل اور امریکا نے مل کر ترتیب دیا جبکہ خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای تہران میں موجود نہیں اور انہیں ایک محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے۔
مہرآباد ایئرپورٹ، اصفہان، کرم، کرج، کرمانشاہ، لورستان اور تبریز پر میزائل آ گرے
میڈیا رپورٹس کے مطابق تہران میں واقع مہرآباد ایئرپورٹ کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ شاہراہ یونیورسٹی کے علاقے میں متعدد میزائل گرنے کی اطلاعات ہیں۔ دارالحکومت تہران سمیت اصفہان، کرم، کرج، کرمانشاہ، لورستان اور تبریز میں بھی زور دار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، جس سے شہریوں میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا۔
ایران کے سرکاری ٹی وی نے بھی حملوں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ مختلف فوجی اور حساس مقامات کو نشانہ بنایا گیا۔ ایرانی حکام کے مطابق ملک کی فضائی حدود فوری طور پر بند کر دی گئی ہے اور تمام پروازیں معطل کر دی گئی ہیں۔ پیشگی حفاظتی اقدامات کے تحت فون اور انٹرنیٹ سروس بھی عارضی طور پر معطل کر دی گئی ہے تاکہ سیکیورٹی صورتحال کو کنٹرول میں رکھا جا سکے۔
ایک امریکی عہدیدار کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ ایران پر حملے جاری ہیں اور کارروائی کئی مراحل میں کی جا رہی ہے۔ اسرائیلی حکام کا دعویٰ ہے کہ یہ حملہ پیشگی حفاظتی اقدام کے طور پر کیا گیا اور ایران کی ممکنہ کارروائی کو روکنا اس کا مقصد تھا۔ مزید یہ بھی دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ ایران کے صدارتی ہیڈ کوارٹر کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق اس آپریشن کی منصوبہ بندی کئی ماہ پہلے شروع کی گئی تھی اور خطے میں حالیہ پیش رفت اسی سلسلے کی کڑی ہے۔ عراق نے بھی صورتحال کے پیش نظر اپنی فضائی حدود بند کر دی ہے، جس سے پورے خطے میں فضائی ٹریفک شدید متاثر ہوئی ہے۔
تہران میں دھماکوں کے بعد سڑکوں پر ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے، سیکیورٹی فورسز کو الرٹ کر دیا گیا ہے اور شہریوں کو گھروں میں رہنے کی ہدایت جاری کی گئی ہے۔ عالمی برادری نے صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے اور خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اگر کشیدگی میں کمی نہ آئی تو یہ تنازع وسیع علاقائی جنگ کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔