ترکیہ نے امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حالیہ حملوں کے بعد خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کم کرنے کے لیے ثالثی کی پیشکش کر دی ہے۔ ترک وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ موجودہ صورتحال نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ عالمی استحکام کے لیے بھی سنگین خطرہ بن سکتی ہے۔
ترک حکام نے واضح کیا ہے کہ ان کا ملک کسی بھی جنگی کارروائی کے لیے اپنی فضائی، زمینی یا سمندری حدود استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔ بیان میں کہا گیا کہ انقرہ خطے میں امن اور استحکام کا خواہاں ہے اور کسی بھی ایسے اقدام سے گریز کرے گا جو تنازع کو مزید ہوا دے۔
ترکیہ کی قیادت نے زور دیا ہے کہ موجودہ بحران کا حل طاقت کے استعمال کے بجائے سفارتی ذرائع اور مذاکرات کے ذریعے تلاش کیا جانا چاہیے۔ حکام کے مطابق جنگی ماحول نہ صرف علاقائی معیشتوں بلکہ عالمی امن کے لیے بھی تباہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔ اسی لیے ترکیہ نے فریقین کے درمیان بات چیت کے عمل کو آگے بڑھانے کے لیے سہولت کار کا کردار ادا کرنے کی آمادگی ظاہر کی ہے۔
دوسری جانب روس نے بھی اپنے بیان میں کہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل ایران میں حکومت کی تبدیلی چاہتے ہیں، تاہم ماسکو تنازع کے پرامن حل کے لیے مدد فراہم کرنے کو تیار ہے۔ روسی حکام کا کہنا ہے کہ طاقت کے استعمال سے صورتحال مزید پیچیدہ ہو سکتی ہے اور اس کے نتائج پورے خطے پر مرتب ہوں گے۔