رجب طیب اردوان نے کہا ہے کہ ایران کی خودمختاری کے خلاف کیے گئے حملے قابلِ مذمت ہیں، ترکیہ کے شہر استنبول میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ترک صدر نے مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔
انہوں نے واضح کیا کہ ایران کی قومی خودمختاری کے خلاف ہونے والی عسکری کارروائیاں قابلِ قبول نہیں اور فریقین کو خون ریزی روکنے کے لیے فوری اقدامات کرنے چاہئیں، ترک صدر نے زور دیا کہ حملوں کو روکنا اور خطے میں امن قائم کرنا تمام ممالک کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
ترکیہ کے صدر نے کہا کہ ان کا ملک خطے میں امن و استحکام چاہتا ہے اور اس مقصد کے لیے سفارتی کوششیں تیز کر دی گئی ہیں، انہوں نے کہا کہ فریقین کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے ترکیہ ہر ممکن کردار ادا کرے گا اور علاقائی ممالک کو بھی تنازعات کے حل کے لیے فعال کردار ادا کرنا چاہیے۔
تقریب سے خطاب میں رجب طیب اردوان نے مزید کہا کہ برادر خلیجی ممالک پر ہونے والے ایران کے ڈرون اور میزائل حملے بھی ناقابلِ قبول ہیں،انہوں نے کہا کہ خطے میں کسی بھی جانب سے ہونے والی جارحانہ کارروائیاں امن کے لیے خطرہ ہیں اور اس سلسلے کو فوری طور پر روکنا ضروری ہے۔
ترک صدر نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کم کرنے کے لیے مشترکہ کوششیں کرے، انہوں نے کہا کہ طاقت کے بجائے مذاکرات اور سفارت کاری ہی خطے کو مزید تباہی سے بچانے کا واحد راستہ ہے۔