وفاقی حکومت نے آئندہ مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں سماجی تحفظ کے دائرہ کار کو مزید وسعت دیتے ہوئے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کے لیے 838 ارب روپے مختص کر دیے ہیں جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 17 فیصد زیادہ ہیں۔
وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کے مطابق یہ خطیر رقم ملک بھر میں مستحق اور کم آمدنی والے خاندانوں میں براہِ راست تقسیم کی جائے گی تاکہ بڑھتی ہوئی مہنگائی کے اثرات کو کم کیا جا سکے اور معاشی طور پر کمزور طبقات کو سہارا فراہم ہو۔
رقم کیسے تقسیم ہوگی؟
حکومتی حکام کے مطابق بی آئی ایس پی کے تحت امداد کی تقسیم جدید ڈیجیٹل نظام کے ذریعے کی جائے گی جس میں روایتی ادائیگی نظام کے بجائے ڈیجیٹل والٹس اور بینکنگ چینلز کو مرکزی حیثیت دی جائے گی۔ اس نظام کا مقصد شفافیت کو یقینی بنانا اور رقوم کی بروقت ترسیل ہے۔
یکم جولائی 2026 سے مرحلہ وار طور پر تمام مستحقین کو ادائیگیاں ڈیجیٹل والٹس کے ذریعے منتقل کی جائیں گی، جبکہ بائیومیٹرک تصدیق کے ذریعے مستحقین کی شناخت اور رقوم کی وصولی کو یقینی بنایا جائے گا۔
بی آئی ایس پی کے اہم پروگرام
بجٹ دستاویزات اور حکومتی پالیسی کے مطابق یہ رقم بی آئی ایس پی کے مختلف جاری اور توسیعی پروگراموں کے ذریعے تقسیم کی جائے گی، جن میں شامل ہیں:
کفالت پروگرام: غریب اور مستحق خواتین کو سہ ماہی نقد امداد
تعلیمی وظائف (وسیلہ تعلیم): بچوں کی اسکولوں میں حاضری برقرار رکھنے کے لیے مالی معاونت
صحت و غذائیت پروگرام: حاملہ خواتین اور بچوں کی غذائی بہتری کے لیے امداد
نشوونما پروگرام: کم عمر بچوں کی نشوونما اور غذائی کمی کے خاتمے کے لیے خصوصی اقدامات
ایمرجنسی کیش سپورٹ: قدرتی آفات یا ہنگامی حالات میں فوری مالی امداد
اہداف اور حکومتی مؤقف
حکومت کے مطابق اس اضافے کا مقصد صرف مالی مدد فراہم کرنا نہیں بلکہ خواتین کی معاشی خودمختاری کو فروغ دینا اور غربت میں کمی لانا ہے۔
بی آئی ایس پی حکام کا کہنا ہے کہ پروگرام کو مزید ڈیجیٹلائز کیا جا رہا ہے تاکہ مستحق افراد کو بغیر کسی رکاوٹ کے براہ راست مالی امداد فراہم کی جا سکے۔