ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے رہائشی کمپاؤنڈ کو عین نشانے پر لگنے والے جدید ترین اور اعلیٰ درستی کے حامل ہتھیار سے نشانہ بنایا گیا، جس کی مالیت تقریباً 10 ملین ڈالر بتائی جا رہی ہے۔ حملہ اس قدر درست تھا کہ میزائل سیدھا مرکزی عمارت پر آ کر گرا، جس کے نتیجے میں شدید دھماکا ہوا اور عمارت کا بڑا حصہ ملبے کا ڈھیر بن گیا۔
یہ بھی پڑھیں:اسرائیل کا ایران پر حملہ، 70 سے زائد شہری شہید، ایران کی جوابی کارروائی جاری، خلیجی ممالک میں امریکی اڈوں پر میزائل حملے
امریکی ذرائع ابلاغ کے مطابق اس کارروائی میں مہنگے ہتھیاروں کے ساتھ کامی کازی ڈرون بھی استعمال کیے گئے، جنہیں ایرانی دفاعی نظام کو دھوکا دینے اور اصل حملے کی راہ ہموار کرنے کے لیے بروئے کار لایا گیا۔ اطلاعات کے مطابق یہ پہلا موقع تھا کہ اس نوعیت کے ڈرونز کو اس پیمانے پر میدان جنگ میں استعمال کیا گیا۔
حملے کی تفصیلات
امریکی میڈیا کے مطابق سپریم لیڈر کو ان کے دفتر میں اس وقت نشانہ بنایا گیا جب وہ سرکاری امور انجام دے رہے تھے۔ دھماکے کے بعد علاقے کو فوری طور پر گھیرے میں لے لیا گیا، تاہم شدید تباہی کے باعث انہیں بچایا نہ جا سکا۔ ایرانی میڈیا نے تصدیق کی ہے کہ حملے میں سپریم لیڈر کے خاندان کے 5 افراد بھی شہید ہوئے۔
عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ حملے سے قبل فضا میں متعدد چھوٹے ڈرونز کی پرواز دیکھی گئی، جس کے بعد اچانک زور دار دھماکہ ہوا۔ سیکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ دفاعی نظام نے کچھ اہداف کو تباہ کیا، تاہم جدید ہتھیار کی غیر معمولی درستگی کے باعث مرکزی عمارت نشانہ بن گئی۔
ایران کا ردعمل
حملے کے فوراً بعد ایران کی مسلح افواج اور سپاہ پاسداران انقلاب نے سخت ردعمل دیتے ہوئے اعلان کیا کہ رہبر کے خون کا بدلہ لیا جائے گا۔ بیان میں کہا گیا کہ مسلح افواج اپنے رہبر خامنہ ای کے راستے پر گامزن رہیں گی اور ملک میں جارحیت کرنے والوں کو سخت سزائیں دیں گی۔
یہ بھی پڑھیں:ایرانی سرکاری میڈیا نے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کی تصدیق کر دی

