سفارت خانۂ اسلامی جمہوریۂ ایران کی جانب سے ایرانی سیاسی و عسکری قیادت پر حملوں کی شدید مذمت

سفارت خانۂ اسلامی جمہوریۂ ایران کی جانب سے ایرانی سیاسی و عسکری قیادت پر حملوں کی شدید مذمت

سفارت خانۂ اسلامی جمہوریۂ ایران نے اتوار کو اسلامی جمہوریۂ ایران کی قیادت کو نشانہ بنانے والے مبینہ دہشت گرد حملے کی نہایت سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے بزدلانہ، بھیانک اور وحشیانہ اقدام قرار دیا اور انقلابِ اسلامی کے اصولوں سے غیر متزلزل وابستگی کا اعادہ کیا۔

پاکستان میں ایرانی سفارت خانے کی جانب سے جاری بیان میں ایران کے رہبرِ معظم آیت اللہ سید علی خامنہ ای کو زبردست خراجِ عقیدت پیش کیا گیا اور انہیں ایک عظیم تاریخی شخصیت قرار دیا گیا، جنہوں نے اپنی پوری زندگی آزادی، خودمختاری، وقار اور مزاحمت کے نظریات کے لیے وقف کیے رکھی۔

یہ بھی پڑھیں:اسرائیل کا ایران پر حملہ، 70 سے زائد شہری شہید، ایران کی جوابی کارروائی جاری، خلیجی ممالک میں امریکی اڈوں پر میزائل حملے

بیان میں کہا گیا کہ یہ دہشتگردی کا گھناؤنا فعل ہے اور قوم اپنے رہنما کے مشن اور انقلابِ اسلامی کے ابدی اصولوں کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتی ہے۔ اس عزم کو بھی دہرایا گیا کہ آخری سانس اور خون کے آخری قطرے تک ان مقاصد کا ساتھ دیا جائے گا۔

سفارت خانے نے تاریخی تناظر میں رہبرِ معظم کی مبینہ شہادت کا تقابل حضرت امام حسین سے کرتے ہوئے کربلا کے واقعے کو قربانی، صبر اور استقامت کی لازوال مثال قرار دیا۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ عظیم رہنما کا خون اسلامی جمہوریہ کے سرسبز پودے کو مزید توانا اور مضبوط بنا گیا ہے، اور ان کی جدوجہد، علمی خدمات اور استقامت تاریخ میں ہمیشہ سنہری حروف سے لکھی جائیں گی اور دنیا کے آزاد انسانوں کے لیے مشعلِ راہ ثابت ہوں گی۔

یہ بھی پڑھیں:سپریم لیڈر خامنہ ای کی شہادت، ایرانی فوج کا بدلہ لینے کا اعلان

سفارت خانے نے اس امر پر زور دیا کہ ملک کا نظام مضبوط آئینی اداروں اور مستحکم قانونی ڈھانچے پر قائم ہے، اور دستور کے مطابق قیادت اور حکمرانی کا تسلسل ہر صورت یقینی بنایا جائے گا۔

بیان کے مطابق اسلامی جمہوریہ آئینی طریقۂ کار کے تحت نئی قیادت کا انتخاب کرے گی اور اتحاد، استقامت اور پختہ عزم کے ساتھ اپنے روحانی اور انسانی راستے پر بدستور گامزن رہے گی۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *