پاکستان کے سپوت کا اور ایک عالمی اعزاز،  خرم خلیل کا تحقیقی مقالہ دنیا کے 10 بہترین مقالہ جات میں شامل

پاکستان کے سپوت کا اور ایک عالمی اعزاز،  خرم خلیل کا تحقیقی مقالہ دنیا کے 10 بہترین مقالہ جات میں شامل

آزاد کشمیر ضلع باغ سے تعلق رکھنے والے نامور محقق راجہ خرم خلیل نے بین الاقوامی سطح کی معروف سائنسی و انجینئرنگ کانفرنس ’ڈیزائن، آٹومیشن اینڈ ٹیسٹ ان یورپ2026 ‘میں ایک بار پھر بڑی علمی کامیابی حاصل کر لی ہے۔

اٹلی کے شہر ورونہ میں منعقد ہونے والی اس معتبر عالمی کانفرنس میں راجہ خرم خلیل کا تحقیقی مقالہ دنیا بھر سے پیش کیے گئے 1310 مقالہ جات میں سے 10 بہترین مقالہ جات کی شارٹ لسٹ میں شامل کر لیا گیا ہے۔یہ مشترکہ تحقیق راجہ خرم خلیل، محمد مہاد خلیق اور خزہ انوار الحق پر مشتمل ٹیم نے تیار کی تھی۔

کانفرنس میں دنیا بھر سے آئے ہوئے ہزاروں محققین نے شرکت کی، جہاں اس مقالے کو جدید کمپیوٹنگ سسٹمز اور مصنوعی ذہانت (اے آئی ) کے میدان میں ایک سنگِ میل قرار دیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:پاکستانی انجینیئر خرم خلیل کا بڑا سائنسی اعزاز، جرمنی میں منعقدہ ’آئی سی سی اے ڈی‘ عالمی کانفرنس میں تحقیقی مقالہ پیش

واضح رہے کہ راجہ خرم خلیل اس سے قبل بھی کئی بین الاقوامی علمی پلیٹ فارمز پر پاکستان اور آزاد کشمیر کی نمائندگی کر چکے ہیں۔ ان کی اس حالیہ کامیابی کو بین الاقوامی سطح پر آزاد کشمیر کے علمی معیار کے اعتراف کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جس سے جدید ٹیکنالوجی کے شعبے میں پاکستانی محققین کی ساکھ مزید مستحکم ہوئی ہے۔

ڈیزائن آٹو میشن اینڈ ٹیسٹ اِن یورپ (ڈی اے ٹی ای) کانفرنس کو کمپیوٹر سائنس اور الیکٹرانک ڈیزائن کے شعبے میں دنیا کی معتبر ترین علمی نشستوں میں شمار کیا جاتا ہے۔

راجہ خرم خلیل کی یہ تحقیق لارج لینگویج ماڈلز (ایل ایل ایم ایس) کے ہارڈویئر نظام میں پیدا ہونے والی خرابیوں کا قبل از وقت اندازہ لگانے سے متعلق ہے، جو کہ موجودہ دور میں اے آئی کی ترقی کے لیے کلیدی اہمیت کی حامل ہے۔

آزاد کشمیر سے تعلق رکھنے والے طالب علم کا امریکا کی اعلیٰ یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کرنا اور پھر یورپ کے بڑے علمی فورم پر بہترین محقق قرار پانا، خطے کے دیگر نوجوانوں کے لیے ایک روشن مثال ہے۔

راجہ خرم خلیل، جو اس وقت امریکا کی ’یونیورسٹی آف مسوری کولمبیا‘ میں پی ایچ ڈی کے طالب علم ہیں، نے اکتوبر 2025 کو اپنا مقالہ پیش کیا تھا جس کا عنوان ’لارج لینگویج ماڈل ایکسلیریٹر کے فالٹ اسسمنٹ کے لیے ری انفورسمنٹ لرننگ کا استعمال‘ تھا۔

راجہ خرم خلیل کی اس کامیابی نے ثابت کر دیا ہے کہ اگر سمت درست ہو تو پاکستانی محققین دنیا کیش کسی بھی بڑی سائنسی اسٹیج پر اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا سکتے ہیں۔

Related Articles