حکومت سندھ نے کراچی میں امریکی قونصل خانے میں مظاہرین کے داخل ہونے اور پیش آنے والے تصادم کے نتیجے میں انسانی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ سرکاری اعلامیے کے مطابق مشتعل مظاہرین نے امریکن قونصل خانے کے بیرونی سیکیورٹی حصار کو عبور کرتے ہوئے اندر داخل ہو کر توڑ پھوڑ کی، جس کے باعث صورتحال کشیدہ ہو گئی۔
یہ بھی پڑھیں:ایران پر حملہ، انتشار سے دشمن مضبوط ہوگا، ملک کو کمزور نہ کریں، علامہ شیخ حسن جعفری کا نوجوانوں کے نام اہم پیغام جاری
حکومت سندھ کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ افسوسناک واقعے میں چھ افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہوئے ہیں، زخمیوں کو قریبی اسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا ہے جہاں انہیں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔
اعلیٰ سطحی تحقیقاتی ٹیم قائم
حکومت سندھ نے واقعے کے تمام پہلوؤں کا غیر جانبدارانہ جائزہ لینے کے لیے اعلیٰ سطحی تحقیقاتی ٹیم قائم کر دی ہے۔ یہ ٹیم اس امر کا تعین کرے گی کہ واقعہ کن حالات میں پیش آیا، اس کے اسباب اور محرکات کیا تھے اور ذمہ دار عناصر کون ہیں۔ حکام کے مطابق تحقیقاتی عمل شفاف انداز میں مکمل کیا جائے گا اور ذمہ داران کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔
پرامن احتجاج کی اپیل
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ حکومت شہریوں کے جمہوری اور آئینی حق احتجاج کا احترام کرتی ہے، تاہم کسی بھی قسم کی توڑ پھوڑ، تشدد یا قانون ہاتھ میں لینا مناسب عمل نہیں۔ پرامن ماحول کو برقرار رکھنا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
حکومت نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے جذبات کا اظہار صرف پرامن اور قانونی طریقے سے کریں اور کسی بھی اشتعال انگیزی سے گریز کریں۔ حکام کا کہنا ہے کہ حالات کو کنٹرول میں رکھنے کے لیے سیکیورٹی انتظامات مزید سخت کر دیے گئے ہیں تاکہ شہر میں امن و امان برقرار رکھا جا سکے۔
حکومت سندھ نے واضح کیا ہے کہ تمام شہریوں کو پُر امن طریقے سے احتجاج ریکارڈ کروانے کا حق حاصل ہے، لیکن قانون کو کسی بھی صورت ہاتھ میں نہ لیا جائے۔