اسلام آباد میں سینیئر اور اہم ترین شیعہ علمائے کرام کی وفاقی وزیرِ داخلہ سے اہم ملاقات جاری ہے، جس میں ملک کی مجموعی امن و امان کی صورتحال اور حالیہ سکیورٹی چیلنجز ،ایران میں خامنہ ای کی شہادت کے بعد کی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا جا رہا ہے ۔
ملاقات میں جید علمائے کرام نے ملک میں مذہبی رواداری، مساجد و امام بارگاہوں کے تحفظ، و مذہبی اجتماعات کے دوران سکیورٹی انتظامات کو مزید مؤثر بنانے کی ضرورت پر روشنی ڈالی۔
اس سے قبل وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد ملک کی موجودہ صورتحال پر اہم گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ آج امت مسلمہ، ایران اور پاکستان کے عوام کے لیے سوگوار دن ہے۔
صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت کے بعد پاکستان کا ہر شہری اسی طرح غمزدہ ہے جس طرح ایران کے شہری اس وقت شدید دکھ اور صدمے کی کیفیت سے گزر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ لمحہ صرف ایران کا نہیں بلکہ پوری امت مسلمہ کا مشترکہ غم ہے۔
پرامن احتجاج کی اپیل
وزیر داخلہ نے شہریوں سے درخواست کی کہ وہ اپنے جذبات کا اظہار ضرور کریں، مگر قانون کو ہرگز ہاتھ میں نہ لیں۔ انہوں نے کہا کہ احتجاج ہر شہری کا حق ہے لیکن اسے پرامن انداز میں ریکارڈ کرایا جائے تاکہ ملک میں امن و امان کی صورتحال برقرار رہے۔
محسن نقوی نے کہا کہ حکومت شہریوں کے جذبات سے پوری طرح آگاہ ہے اور ان کے دکھ میں برابر کی شریک ہے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ ریاست عوام کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے تمام ضروری اقدامات کر رہی ہے۔