افغان طالبان کی جارحیت کے خلاف پاکستان کا آپریشن غضب للحق کامیابی سے جاری ہے اور دشمنوں کو چن چن کر نشانہ بنایا جارہا ہے،اس آپریشن میں مزید تیزی لاتے ہوئے پاک فضائیہ اور افواج پاکستان نے افغانستان کے تمام بارڈر سیکٹر پر بڑا حملہ کر دیا۔
پاک افغان سرحد پر کشیدگی کے تناظر میں پاکستان سیکیورٹی فورسز نے 26 فروری کو ٹی ٹی اے کی جانب سے شروع کی گئی کارروائیوں کے جواب میں سرحد کے تمام سیکٹرز میں متعدد فارورڈ پوسٹوں پر منظم اور مؤثر جوابی کارروائی کی ہے سیکیورٹی ذرائع کے مطابق اس آپریشن کا مقصد دشمن کی عسکری صلاحیت اور اس سے منسلک ڈھانچے کو کمزور کرنا تھا۔
کارروائیوں کے دوران مختلف سیکٹرز میں مزید پانچ پوسٹیں قبضے میں لے لی گئیں، جبکہ کئی اہم ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا۔ تیرہ، مہمند اور خیبر کے علاقوں میں ٹی ٹی اے کی جانب سے نفری بڑھانے کی کوشش کی گئی۔
تاہم پاکستانی فورسز کی مؤثر اور بھرپور فائرنگ سے ان کوششوں کو ناکام بنا دیا گیا۔ دن کے مختلف اوقات میں دور سے چھوٹے ہتھیاروں سے فائرنگ کے واقعات بھی پیش آئے جن کا مارٹر اور توپ خانے سے مؤثر جواب دیا گیا۔
سیکورٹی ذرائع کے مطابق وائرلیس کمیونیکیشن انٹرسیپٹس اور زمینی اطلاعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ٹی ٹی اے اور خارجی عناصر کو بھاری جانی نقصان اٹھانا پڑا، جبکہ پوری سرحدی پٹی پر پاکستانی سیکیورٹی فورسز کا کوئی جانی نقصان رپورٹ نہیں ہوا۔
تصدیق شدہ اعداد و شمار کے مطابق ٹی ٹی اے کے 415 افراد ہلاک اور 580 سے زائد زخمی ہوئے، 182 پوسٹیں تباہ کی گئیں اور 31 پوسٹوں پر قبضہ کر لیا گیا۔ اس کے علاوہ 186 ٹینک، بکتر بند اور دیگر گاڑیاں تباہ کی گئیں جبکہ 41 مقامات کو فضائی کارروائی میں نشانہ بنایا گیا۔
اطلاعات کے مطابق سرحد کے متعدد مقامات پر ٹی ٹی اے کے عناصر نے اپنی پوسٹوں پر سفید جھنڈے لہرا کر کشیدگی کم کرنے کی خواہش ظاہر کی ہے۔
ژوب سیکٹر میں 32 مربع کلومیٹر پر مشتمل گھدوانہ انکلیو مکمل طور پر پاکستانی فورسز کے کنٹرول میں ہے، جبکہ اس علاقے میں دشمن کی کئی پوسٹیں خالی کر دی گئی ہیں۔
قبضے میں لیا گیا اسلحہ، گاڑیاں اور دیگر عسکری سامان عقبی ہیڈکوارٹر منتقل کر دیا گیا ہے۔ سیکیورٹی فورسز صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں اور سرحدی علاقوں میں دفاعی پوزیشن مضبوط رکھتے ہوئے مکمل چوکس ہیں۔