ایران کا عراق میں جوابی وار؛ امریکی اسلحہ ڈپو پر بڑا میزائل اور ڈرون حملہ

ایران کا عراق میں جوابی وار؛ امریکی اسلحہ ڈپو پر بڑا میزائل اور ڈرون حملہ

ایرانی سپریم لیڈر کی شہادت کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے شعلے مزید بھڑک اٹھے ہیں۔ ایران نے ‘آپریشن وعدہ صادق 4’ کے تسلسل میں عراق میں موجود امریکی فوجی اڈے کے اسلحہ ڈپو کو نشانہ بناتے ہوئے ایک بڑا حملہ کر دیا ہے۔

عراقی سیکیورٹی ذرائع کے مطابق، حملے میں بیلسٹک میزائلوں اور خودکش ڈرونز کا استعمال کیا گیا ہے جس سے بڑے پیمانے پر تباہی کی اطلاعات ہیں۔

عراق کے صوبہ انبار اور کردستان ریجن میں موجود امریکی تنصیبات پر ہونے والے اس حملے کے حوالے سے درج ذیل تفصیلات سامنے آئی ہیں: ایرانی میزائلوں نے براہِ راست امریکی اسلحہ ذخیرہ کرنے والے گوداموں کو نشانہ بنایا، جس کے بعد کئی گھنٹوں تک ثانوی دھماکے ہوتے رہے۔

دھماکوں کے نتیجے میں لگنے والی آگ اتنی شدید تھی کہ اسے کئی کلومیٹر دور سے دیکھا جا سکتا تھا۔ امریکی ایئر ڈیفنس سسٹم نے کئی میزائلوں کو فضا میں ہی تباہ کرنے کی کوشش کی، تاہم متعدد میزائل اپنے ہدف تک پہنچنے میں کامیاب رہے۔

ایران کے پاسدارانِ انقلاب نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے اسے “ابتدائی انتقام” قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل نے ایرانی قیادت کو نشانہ بنا کر جس جنگ کا آغاز کیا ہے، اب اس کا دائرہ کار پورے خطے تک پھیلے گا۔ ایرانی عسکری حکام نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکی اڈوں سے مزید پروازیں اڑیں تو اگلا ہدف براہِ راست امریکی فوج کے مراکز ہوں گے۔

مزید پڑھیں: ایرانی پاسدارانِ انقلاب کا14 امریکی اڈوں پر حملوں میں سینکڑوں فوجیوں کی ہلاکت کا دعوٰی

editor

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *