ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے اس بڑی عسکری کارروائی کو اپنے سپریم لیڈر کی شہادت کا پہلا باضابطہ انتقام قرار دیتے ہوئے انتباہ جاری کیا ہے کہ اگر دشمن نے دوبارہ جارحیت کی تو اگلا حملہ اس سے کہیں زیادہ شدید اور تباہ کن ہوگا۔
تفصیلات کے مطابق ایرانی پاسداران نے سپریم لیڈر کی شہادت کا پہلا باضابطہ انتباہ جاری کر دیا اور اس حوالے سے مقبوضہ بیت المقدس پر شدید میزائل حملہ کیا گیا ہے اور اس غیر معمولی حملے کے بعد اسرائیل کی وار کیبنٹ کا ہنگامی اجلاس طلب کر لیا گیا ہے اور عالمی برادری میں یہ تشویش گہری ہوتی جا رہی ہے کہ طاقت کا یہ تصادم اب کسی بھی وقت ایک مکمل علاقائی یا عالمی جنگ کی صورت اختیار کر سکتا ہے۔
دفاعی ماہرین کا ماننا ہے کہ مقبوضہ بیت المقدس جیسے حساس علاقے میں میزائلوں کا گرنا ظاہر کرتا ہے کہ ایران اب کسی بھی سرخ لکیر کو عبور کرنے سے گریز نہیں کرے گا جس نے مشرقِ وسطیٰ کے جغرافیائی اور سیاسی استحکام کو داؤ پر لگا دیا ہے۔
دوسری جانب یرانی سپریم لیڈر کی شہادت کے بعد جاری ‘آپریشن وعدہ صادق 4’ کے تحت ایران نے اب خلیجی ریاست بحرین میں قائم امریکی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے۔ عینی شاہدین اور مقامی ذرائع کے مطابق، بحرین میں موجود امریکی بحری بیڑے (5th Fleet) کے قریب زوردار دھماکے سنے گئے ہیں، جس کے بعد بڑے پیمانے پر آگ بھڑک اٹھی ہے۔
مزید پڑھیں: تہران پر بمباری سے ہماری جنگی صلاحیت پر کوئی اثر نہیں پڑتا، ایرانی وزیر خارجہ

