امریکا اور اسرائیل کے ایران پر حملوں کے بعد خطے میں کشیدگی نئی سطح پر پہنچ گئی ہے، جس کے ردعمل میں ایران کی جانب سے اہم سمندری گزرگاہ سٹریٹ آف ہرمزکو مؤثر طور پر بند کرنے کے اقدام نے عالمی معیشت کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔
بین الاقوامی امور کے ماہر ڈاکٹر عادل نجم نےنجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آبنائے ہرمز کی بندش کی وجہ صرف ایران نہیں بلکہ خطے میں موجود امریکی بحری بیڑوں کی موجودگی بھی ہے، جس سے خوف اور غیر یقینی کی فضا پیدا ہو چکی ہے۔ ان کے مطابق اس صورتحال کے فوری اور دور رس دونوں طرح کے اثرات مرتب ہوں گے اور موجودہ حالات دیکھتے ہوئے یہ بحران چند دنوں تک جاری رہ سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ مصروف ترین تجارتی گزرگاہ عالمی توانائی سپلائی کی شہ رگ سمجھی جاتی ہے، جہاں سے روزانہ دنیا کے تقریباً 20 فیصد خام تیل اور 30 فیصد مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی ترسیل ہوتی ہے۔ اس کی بندش سے عالمی منڈیوں میں شدید اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آ رہا ہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائیٹرزکی رپورٹ کے مطابق ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد عالمی آئل مارکیٹ کئی دہائیوں کے بڑے بحران کی طرف بڑھ رہی ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر کشیدگی برقرار رہی تو تیل کی قیمتیں 130 ڈالر فی بیرل تک جا سکتی ہیں، جس کے اثرات عالمی مہنگائی اور معاشی سست روی کی صورت میں سامنے آ سکتے ہیں۔
مزید جانییے: ایران کا اسرائیل پر جوابی حملہ، ایرانی میزائلوں سے مقبوضہ بیت المقدس میں تباہی کے مناظر

