ایران کے حملوں کے بعد یو اے ای نے سفارتی تعلقات معطل کر دیے، سفارتخانہ بند

ایران کے حملوں کے بعد یو اے ای نے سفارتی تعلقات معطل کر دیے، سفارتخانہ بند

ایران اور متحدہ عرب امارات کے درمیان سفارتی تعلقات معطل ہو گئے۔ اماراتی حکام کے مطابق ایران میں قائم سفارتخانہ بند کرنے اور تہران سے اپنے سفیر کو واپس بلانے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے اور یہ اقدام ایران کی جانب سے یو اے ای پر حملوں کے بعد کیا گیا۔

عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق ایران نے خلیجی ممالک میں موجود 14 امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا تھا۔ بتایا گیا کہ یہ اڈے سعودی عرب، بحرین، یو اے ای اور قطر میں واقع ہیں۔ ایرانی حکام نے سینکڑوں اہلکاروں کی ہلاکت کا دعویٰ بھی کیا، تاہم ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔

اماراتی حکام کے مطابق دارالحکومت ابوظہبی میں داغے گئے میزائلوں کو فضائی دفاعی نظام نے فضا میں ہی تباہ کر دیا، تاہم ملبہ گرنے سے ایک پاکستانی شہری جاں بحق ہو گیا۔

دوسری جانب سعودی عرب نے تصدیق کی کہ ایران نے ریاض اور مشرقی علاقوں کو میزائلوں سے نشانہ بنانے کی کوشش کی، تاہم فضائی دفاعی نظام نے حملہ ناکام بنا دیا اور کسی بڑے جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔

قطر نے بھی ایرانی حملوں کی مذمت کرتے ہوئے عارضی طور پر اپنی فضائی حدود بند کر دیں، جس کے باعث حماد انٹر نیشنل ائیر پورٹ سے متعدد پروازیں معطل ہوئیں۔بحرین نے شہریوں کو سائرن کے ذریعے محتاط رہنے کی ہدایت کی، جبکہ ایران نے وہاں موجود امریکی ففتھ فلیٹ کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا، تاہم کسی جانی یا مالی نقصان کی تصدیق نہیں ہوئی۔

مزید پڑھیں: یو اے ای سواٹ چیلنج : پاکستان اور چین کی برتری نمایاں، بھارت کی کارکردگی بےنقاب

شام اور اردن نے بھی ایرانی ڈرونز مار گرانے کا دعویٰ کیا اور قومی سلامتی کے خلاف کسی بھی اقدام پر سخت ردعمل کا عندیہ دیا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی نہ صرف سفارتی تعلقات بلکہ توانائی کی عالمی منڈیوں اور علاقائی استحکام پر بھی گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔

editor

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *