ایران امریکا کشیدگی کے تناظر میں آبنائے ہرمز کی ممکنہ بندش نے عالمی سطح پر تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر یہ اہم آبی گزرگاہ بند ہو جاتی ہے تو دنیا بھر خصوصاً پاکستان کو شدید معاشی مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، کیونکہ پاکستان اپنی تقریباً 90 فیصد تیل اور مائع قدرتی گیس کی درآمد اسی راستے سے حاصل کرتا ہے۔
پاکستان کی تقریباً 95 فیصد غیر ملکی تجارت بحیرۂ عرب کے ذریعے انجام پاتی ہے، اور آبنائے ہرمز اسی سمندری راستے کا ایک نہایت اہم حصہ ہے،عالمی سطح پر اس گزرگاہ کی بندش نہ صرف توانائی کی ترسیل کو متاثر کرے گی بلکہ بین الاقوامی معیشت کے لیے بھی تباہ کن نتائج کا باعث بن سکتی ہے۔
یہ تنگ آبی راستہ خلیج فارس کو کھلے سمندر سے ملاتا ہے اور روزانہ تقریباً 20 ملین بیرل تیل، جو عالمی تیل کی کھپت کا لگ بھگ 20 فیصد بنتا ہے، اسی راستے سے گزرتا ہے۔
اس کے علاوہ مائع قدرتی گیس کی بڑی مقدار بھی اسی گزرگاہ کے ذریعے عالمی منڈیوں تک پہنچتی ہے، یہ راستہ خلیج فارس کے بڑے پیداواری ممالک یعنی سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، عراق، کویت، قطر اور ایران کو عالمی منڈیوں سے جوڑتا ہے۔ اس کی طویل بندش تیل کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافے اور دنیا بھر میں معاشی بحران کا سبب بن سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں :ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کی بندش، عالمی معیشت کو شدید دھچکا
پاکستان کے لیے اس کے اثرات نہایت سنگین اور کثیر جہتی ہوں گے، خلیجی خطے سے درآمد شدہ توانائی پر شدید انحصار کے باعث اگر یہ راستہ بند ہو جاتا ہے تو ملک کے اسٹریٹجک ذخائر تیزی سے ختم ہو سکتے ہیں، اندازوں کے مطابق موجودہ ایندھن کے ذخائر بمشکل ایک ماہ تک ضروریات پوری کر سکیں گے، جس کے بعد شدید قلت پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔
عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں ڈرامائی اضافہ براہ راست پاکستانی صارفین اور صنعتوں کو متاثر کرے گا، جس سے پیٹرول، ڈیزل اور بجلی کی قیمتوں میں بڑا اور نمایاں اضافہ متوقع ہے۔
اس کے نتیجے میں صنعتی پیداوار اور زرعی سرگرمیاں متاثر ہو سکتی ہیں، برآمدات میں کمی واقع ہو سکتی ہے اور مہنگائی و غربت میں بے پناہ اضافہ ہو سکتا ہے۔
آبنائے ہرمز کی بندش پاکستان کے ادائیگیوں کے توازن کے بحران کو مزید گہرا کر سکتی ہے، زرمبادلہ کے ذخائر پر شدید دباؤ ڈال سکتی ہے اور حکومت کی جانب سے بنیادی ضروریات پر سبسڈی دینے یا بیرونی قرضوں کی ادائیگی کی صلاحیت کو محدود کر سکتی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر یہ بندش طویل عرصے تک برقرار رہی تو یہ نہ صرف پاکستان بلکہ پوری دنیا کے لیے وسیع معاشی و اقتصادی مسائل کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہے۔

