مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پیش نظر ترک صدر رجب طیب اردوان نے امریکی، یورپی اور علاقائی قیادت سے رابطوں کا سلسلہ تیز کر دیا۔
ترک میڈیا کے مطابق اس سفارتی گفتگو کا مقصد خطے میں امن و استحکام کے لیے مشترکہ حکمت عملی اپنانا اور ممکنہ تصادم کو روکنا ہےاطلاعات کے مطابق ترک صدر نے سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ایران کی موجودہ صورتحال پر تفصیلی بات چیت کی۔
گفتگو کے دوران صدر اردوان نے اس امر پر زور دیا کہ ایران کے ساتھ مسائل کو جنگ کے بجائے مذاکرات اور سفارتی ذرائع سے حل کیا جانا چاہیے، انہوں نے خبردار کیا کہ عسکری راستہ اختیار کرنے سے پورا خطہ عدم استحکام کا شکار ہو سکتا ہے۔
ترک میڈیا کے مطابق صدر اردوان نے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے بھی رابطہ کیا، اس گفتگو میں خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے ممکنہ اثرات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں :امریکا سے کوئی مذاکرات نہیں ہوں گے، ایران نے ٹرمپ کی پیشکش مسترد کردی
صدر اردوان کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات سے تمام ممالک شدید متاثر ہوں گے، اس لیے کشیدگی میں کمی کے لیے سنجیدہ اور فوری مداخلت ضروری ہے، ترکیہ اور سعودی عرب نے سفارتی عمل کو مزید تیز کرنے اور رابطوں کو جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔
ترک صدر نے قطری امیر تمیم بن حمد آل ثانی سے ایرانی حملوں کے تناظر میں یکجہتی کا اظہار کیا اور علاقائی سلامتی کے امور پر مشاورت کی،اسی سلسلے میں متحدہ عرب امارات کے صدر محمد بن زاید آل نہیان سے بھی گفتگو کی گئی، جس میں خطے کی تازہ صورتحال اور ممکنہ سفارتی اقدامات زیرِ بحث آئے۔
ترک میڈیا کے مطابق صدر اردوان نے یورپی کمیشن کی صدر ارسولا فان ڈیر لاین اور کویتی امیر مشعل الاحمد الجابر الصباح سے بھی ٹیلی فونک رابطہ کیاگفتگو میں علاقائی استحکام، سفارتی کوششوں کے فروغ اور ممکنہ انسانی اثرات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

