سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ آپریشن سندور شروع کرنے والوں کا خیال تھا کہ پاکستان میں فوج اور عوام کے درمیان تصادم پیدا ہوگا، تاہم ایسا نہیں ہوا۔ دباؤ کے باوجود بھی پاکستان نے اپنے دفاعی مؤقف کو برقرار رکھا اور واضح کیا کہ اگر کسی نے پنگا لیا تو اسے جواب دیا جائے گا۔
معرکہ حق میں پاکستان نے اپنی دفاعی صلاحیت کا صرف دس فیصد استعمال کیا تھا جبکہ نوے فیصد صلاحیت ابھی باقی ہے،سکیورٹی ذرائع نے کہا کہ اگر کسی جانب سے جارحیت کی گئی تو دفاعی طاقت کو استعمال کیا جائے گا۔
سیکورٹی ذرائع کا کہنا تھا کہ ہماری بھارت کے حوالے سے حکمت عملی واضح ہے اور کسی بھی جارحانہ اقدام کا بھرپور جواب دیا جائے گا بھارت کے خلاف کارروائی کا مقصد علاقائی دفاع اور قومی سلامتی کو یقینی بنانا ہے۔
سکیورٹی ذرائع نے مزید کہا کہ افغانستان میں ہمار اآپریشن طالبان کیخلاف نہیں،یہ انڈیا کو جواب دے رہے ہیں،سیکورٹی ذرائع نے کہا کہ پاکستان نے بہت جنازے اٹھا لیے ہیں اب تماری باری ہے تم جنازے اٹھائو گے ۔
،تم کہتے تھے کہ افغانستان ایمپائرز کی مقتل ہے؟تم پلے گرائونڈ تھے اپمپائر کی ،وہ آتے تھے اور جانا ہوتا تھا ہم تو یہی بیٹھے ہوئے ہیں ،پاکستان میں جو مظاہرین قتل ہوئے اس پر جے آئی ٹی بننی چاہیے ۔
مظاہرین میں جن لوگوں نے ہتھیار اٹھا رکھے تھے وہ جنگجو تھے ،آگ لگانے والوں کو ہیرو نہیں بنانا چاہیے ،فیلڈ مارشل کلیئر ہیں حکومت جو بھی ہو اسکی ہدایات پر عمل کرنا ہے ،کل کوئی اور حکومت ہوئی تو اس کو بھی سلیوٹ ماریں گے ۔
سیکورٹی ذرائع کا کہنا تھا کہ انڈیاجب آنا چاہےآئے ہمارے جوان بہت خوش ہیں،انڈیا کو مارتے ہوئے ہمیں زیادہ خوشی ہوتی ہےسکیورٹی ذرائع نے واضح کیا کہ فوجی قیادت حکومت کی پالیسی کے مطابق کام کرتی ہے اور حکومت خواہ کوئی بھی ہو، دفاعی ادارے اس کی ہدایات پر عمل کرتے رہیں گے۔
سیکورٹی ذرائع نے کہا کہ ادارے وفاقی حکومت پاکستان کے ماتحت ہیں اور جو بھی بریفنگ لینا چاہے وہ وفاقی حکومت سے درخواست کرے پاکستان اپنی دفاعی صلاحیتوں پر مکمل اعتماد رکھتا ہے اور کسی بھی بیرونی خطرے کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہے۔