پاکستانی سکیورٹی فورسز نے آج پاک افغان سرحد کے مختلف منتخب سیکٹرز میں متعدد فارورڈ ٹی ٹی اے چوکیوں پر بھرپور جوابی فائر پلان کے تحت کارروائی کی۔
یہ اقدام 26 فروری 2026 کو ٹی ٹی اے کی جانب سے شروع کی گئی جارحیت کے ردعمل میں کیا گیا۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق اس کارروائی کا مقصد مبینہ عسکری صلاحیتوں اور ان سے منسلک ڈھانچے کو مؤثر انداز میں نقصان پہنچانا تھا۔
تفصیلات کے مطابق دن بھر مختلف سیکٹرز میں بھاری ہتھیاروں کے استعمال سے مزید 6 ٹی ٹی اے چوکیاں تباہ کی گئیں نارتھ وزیرستان کے زندہ سیکٹر میں ٹی ٹی اے نے نفری جمع کرنے کی کوشش کی جسے مؤثر اور بھرپور فائرنگ سے ناکام بنا دیا گیا۔
دن کے دوران فاصلے سے چھوٹے ہتھیاروں سے فائرنگ کے ذریعے بھی کوششیں کی گئیں تاہم مارٹر، ٹینک اور توپخانے کی مؤثر جوابی کارروائی سے انہیں بھی غیر مؤثر بنا دیا گیا۔
سکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کے تعاقب اور عسکری ڈھانچے کو نقصان پہنچانے کے لیے مختلف گہرائی والے مقامات پر 10 فضائی حملے بھی کیے، سیکورٹی ذرائع کے مطابق ٹی ٹی اے اور خوارج کے مزید جانی نقصانات ہوئے ہیں، تاہم پورے محاذ پر پاکستانی سکیورٹی فورسز کا کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
چترال سیکٹر میں مقامی عمائدین کے ذریعے ٹی ٹی اے کی جانب سے فلیگ میٹنگ کی درخواست موصول ہوئی ہے تاکہ 26 اور 27 فروری کی درمیانی شب پاکستانی مسلح افواج کی جانب سے ان کی چوکی پر کی گئی کارروائی کے دوران چھوڑے گئے 5 جنگجوؤں کی لاشیں واپس لی جا سکیں۔
تصدیق شدہ نقصانات کی مجموعی تفصیل کے مطابق ٹی ٹی اے کے 458 افراد ہلاک جبکہ 700 سے زائد زخمی ہوئے۔ 202 چوکیاں تباہ اور 33 پر کنٹرول حاصل کیا گیا 196 ٹینک، بکتر بند گاڑیاں اور دیگر گاڑیاں تباہ کی گئیں جبکہ 53 مقامات کو فضائی کارروائی میں نشانہ بنایا گیا کئی مقامات پر ٹی ٹی اے فورسز نے اپنی چوکیوں پر سفید پرچم لہرا دیے ہیں
ژوث سیکٹر میں گھدوانہ انکلیو کا 32 مربع کلومیٹر علاقہ مکمل طور پر پاکستانی فورسز کے کنٹرول میں ہے، اس سیکٹر میں قریبی ٹی ٹی اے چوکیاں زیادہ تر خالی کر دی گئی ہیں جہاں سفید پرچم بلند ہیں۔
پاکستان کی جانب سے بھاری مشینری استعمال کرتے ہوئے 7 کلومیٹر طویل خندق کھودی جا رہی ہے تاکہ جذب کیے گئے 32 مربع کلومیٹر افغان علاقے کو مستحکم بنایا جا سکے۔