بگرام ایئر بیس پر آپریشن ‘غضبُ للحق’ کی بڑی کامیابی: افغان طالبان کی وزارتِ دفاع کا اعتراف

بگرام ایئر بیس پر آپریشن ‘غضبُ للحق’ کی بڑی کامیابی: افغان طالبان کی وزارتِ دفاع کا اعتراف

افغان طالبان کی وزارتِ دفاع کی جانب سے جاری کردہ حالیہ ڈیمیج رپورٹ میں بگرام ایئر بیس پر ہونے والی تباہی کا اعتراف کیا گیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق افغان طالبان وزارتِ دفاع کی جاری کردہ ڈیمیج رپورٹ میں بگرام ایئر بیس پر پاکستانی فضائیہ کے حملے سے ہونے والی تباہی کی تفصیلات سامنے آ گئیں ، افغان طالبان کی وزارتِ دفاع کی جانب سے جاری رپورٹ کے مطابق حملے میں بلیک ہاک ہیلی کاپٹرز، ہرکولیس کارگو طیارہ، ٹوکانو طیارہ، بکتر بند گاڑیاں اور دیگر اہم عسکری سازوسامان تباہ ہوا۔

دستاویز میں اسے اپنی نوعیت کی سب سے بڑی تباہی قرار دیا گیا ہے اور ذرائع کے مطابق افغان طالبان کی وزارتِ دفاع نے اعتراف کیا ہے کہ پاکستانی حملہ اس قدر شدید تھا جس سے فوجی تنصیبات کو نمایاں نقصان پہنچا۔

میڈیا ذرائع کے مطابق اس کامیابی کو خطے میں امن و امان کی بحالی کے حوالے سے ایک انتہائی مثبت پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق پاکستانی فضائیہ کے نپے تلے اور شدید حملے نے ان مخصوص عسکری اثاثوں کو نشانہ بنایا ہے جو طویل عرصے سے سرحد پار شرپسندی اور دہشت گردانہ کارروائیوں کے لیے بطور “لاجسٹک سپورٹ” استعمال کیے جا رہے تھے۔

اس آپریشن کی سب سے بڑی خوشخبری یہ ہے کہ بلیک ہاک ہیلی کاپٹرز، ہرکولیس کارگو طیاروں اور ٹوکانو طیاروں جیسے جدید جنگی وسائل کے ناکارہ ہونے سے ان عناصر کی کمر ٹوٹ گئی ہے جو معصوم جانوں کے خلاف فضائی اور زمینی برتری حاصل کرنے کی کوشش میں تھے۔

مزید جانیئے: افغان طالبان کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ پاکستان کے ساتھ کھڑے ہیں یا دہشتگردوں کے ساتھ ، سینئر سیکورٹی عہدیدار

دوسری جانب ماہرین کا ماننا ہے کہ بگرام جیسے تزویراتی مرکز پر دہشت گردوں کے زیرِ استعمال انفراسٹرکچر کی یہ “تاریخی تباہی” دراصل ان کی سپلائی لائن کا خاتمہ ہے، جس سے مستقبل میں دہشت گردی کے واقعات میں واضح کمی آئے گی اور سرحدی علاقوں کے مکینوں کو ایک محفوظ اور پُرامن ماحول میسر آئے گا۔

یہ کامیابی اس لحاظ سے بھی اہم ہے کہ پاکستانی فضائیہ نے انتہائی پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے صرف جائز فوجی اہداف کو نشانہ بنایا، جس سے عام شہریوں کے جان و مال کو کوئی خطرہ لاحق نہیں ہوا۔ اس بڑی عسکری پیش رفت نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ شرپسندوں کے ٹھکانوں اور ان کے جنگی سازوسامان کا قلع قمع کرنا ہی خطے میں مستقل استحکام کی واحد راہ ہے، اور اس کارروائی کے بعد اب معاشی و تجارتی سرگرمیوں کی بحالی کی نئی امیدیں پیدا ہو گئی ہیں۔

editor

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *