ٹرمپ ایران میں قیادت کی تبدیلی چاہتے ہیں لیکن ان کے پاس بعدکا کوئی منصوبہ نہیں: امریکی میڈیا

ٹرمپ ایران میں قیادت کی تبدیلی چاہتے ہیں لیکن ان کے پاس بعدکا کوئی منصوبہ نہیں: امریکی میڈیا

امریکی میڈیا نے کہا ہےکہ صدر ٹرمپ ایران کی قیادت کے خاتمےکی کوشش کر رہے ہیں مگر اس کے بعدکاکوئی منصوبہ موجود نہیں۔

امریکی میڈیا کی جانب سے سامنے آنے والی حالیہ رپورٹس نے وائٹ ہاؤس کی مشرقِ وسطیٰ کے حوالے سے پالیسی پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران میں موجودہ قیادت کی تبدیلی (Regime Change) کے شدید خواہشمند تو ہیں لیکن ان کے پاس اس تبدیلی کے بعد پیدا ہونے والے ممکنہ سیاسی و سماجی خلا کو پر کرنے کے لیے کسی قسم کا کوئی واضح اور ٹھوس منصوبہ (Exit Strategy) موجود نہیں ہے۔

ان تجزیوں کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے ایران پر ‘زیادہ سے زیادہ دباؤ’ (Maximum Pressure) ڈالنے کی پالیسی کا بنیادی مقصد تہران کی اقتصادی بنیادیں ہلا کر وہاں عوامی سطح پر بے چینی پیدا کرنا ہے تاکہ حکومت کی تبدیلی کی راہ ہموار ہو سکے، تاہم واشنگٹن کے دفاعی اور سیاسی ماہرین اس بات پر گہری تشویش کا اظہار کر رہے ہیں کہ کسی جامع پلان کے بغیر قیادت کی تبدیلی پورے خطے کو ایک طویل عدم استحکام اور خانہ جنگی کی طرف دھکیل سکتی ہے۔

میڈیا رپورٹس میں اس بات کی نشاندہی بھی کی گئی ہے کہ ٹرمپ کے قریبی مشیران اور پینٹاگون کے حکام کے درمیان اس نکتے پر اختلافات پائے جاتے ہیں کہ آیا ایران میں قیادت کی تبدیلی کے بعد کوئی متبادل جمہوری ڈھانچہ تیار کیا گیا ہے یا نہیں، کیونکہ عراق اور افغانستان جیسے ماضی کے تجربات بتاتے ہیں کہ بعد کے منصوبے (Post-war Plan) کے بغیر کی جانے والی مداخلت ہمیشہ مہنگی ثابت ہوئی ہے۔

مزید پڑھیں:ایران کے دور تک مار کرنے والے میزائل خطرہ، جلد بڑی کارروائی کرنے جارہے ہیں، ٹرمپ

امریکی میڈیا کا یہ ماننا ہے کہ صرف پابندیوں اور سخت بیانات کے ذریعے قیادت کو ہٹانا تو شاید ممکن ہو، لیکن 8 کروڑ سے زائد آبادی والے ملک میں نظم و ضبط برقرار رکھنا اور کسی نئی قیادت کو مستحکم کرنا ایک ایسا چیلنج ہے جس کا حل فی الحال ٹرمپ کی میز پر موجود نہیں ہے، جو عالمی سطح پر اس پالیسی کی کامیابی پر سوالیہ نشان کھڑے کر رہا ہے۔

editor

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *