بلوچستان میں فتنہ الہندوستان کی جانب سے سیکیورٹی اہلکاروں کے اغوابعد ازاں شہید کئے جانے کے واقعے کے بعد سے سیکیورٹی فورسز کی جانب سے بی ایل کے دہشتگردوں کے خلاف جاری آپریشن میں بڑی تعداد میں دہشتگردوں کو ہلاک جبکہ 100 سے زائد دہشتگردوں کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔
سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ سیکیورٹی اہلکار30 اور 31 جنوری 2026 کی درمیانی شب لاپتہ ہوئے تھے۔ اس لمحے سے ہی اسپیشل فورسز، آرمی یونٹس، فضائیہ اور انٹیلی جنس ادارے متحرک ہو گئے تھے۔ ہزاروں مربع کلومیٹر پر پھیلے دشوار گزار اور پہاڑی علاقوں میں مسلسل ٹریکنگ، تعاقب اور سرچ آپریشن جاری رکھا گیا۔ بلوچستان بھر میں سیکیورٹی اثاثوں کو یکجا کیا گیا، انٹیلی جنس گرڈز فعال کیے گئے اور کارروائیاں ایک لمحے کے لیے بھی نہیں روکی گئیں۔
سیکیورٹی حکام کے مطابق بی ایل اے نے سیکیورٹی اہلکاروں کی زندہ ہونے کا کوئی ثبوت فراہم کرنے کے بجائے بلیک میلنگ کا راستہ اختیار کیا۔ بی ایل اے کی جانب سے دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں، جن میں ماہ رنگ بلوچ اور دیگر کالعدم قیدیوں کی رہائی جیسے مطالبات شامل تھے، پیش کیے گئے۔ ذرائع نے ان مطالبات کو دہشت گردی کی سودے بازی قرار دیا جو سیاست کے لبادے میں چھپانے کی کوشش کی گئی۔
انٹیلی جنس اطلاعات کے مطابق مغوی جوانوں کو بازیابی سے بچانے کے لیے مسلسل دشمن علاقے میں ایک مقام سے دوسرے مقام پر منتقل کیا جاتا رہا۔ بعض غیر مصدقہ اطلاعات میں انہیں افغانستان منتقل کرنے کی کوششوں کا بھی ذکر سامنے آیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ مغوی جوانوں کی بازیابی کے لیے کوئی کسر نہیں چھوڑی گئی اور ہر ممکن ذریعہ استعمال کیا گیا۔
ان کارروائیوں کے دوران بڑی تعداد میں بی ایل اے کے دہشت گرد ہلاک کیے گئے جبکہ 100 سے زائد کو گرفتار کیا گیا۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق “آپریشن غضب للحق” پوری شدت کے ساتھ جاری ہے اور یہ کارروائی نہ صرف دہشت گردوں کے خلاف بلکہ ان کے سرپرستوں کے خلاف بھی فیصلہ کن ثابت ہو رہی ہے۔ اس آپریشن کو بی ایل اے کے ماسٹر پراکسی سے اغوا کا بدلہ بھی قرار دیا جا رہا ہے۔
پاکستانی قوم اپنے شہداء پر سوگوار ہے اور قوم شہید جوانوں اور ان کے اہل خانہ کو اعلیٰ ترین خراج عقیدت پیش کرتی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ بی ایل اے ایک بار پھر ایک دہشت گرد، غیر انسانی اور مجرمانہ تنظیم کے طور پر بے نقاب ہو چکی ہے۔
سیکیورٹی فورسز کی جانب سے واضح کیا گیا ہے کہ قاتلوں سے کسی قسم کی کوئی بات چیت نہیں ہوگی۔ بی ایل اے اور ان کے سہولت کاروں و سرپرستوں کو بھاری قیمت چکانا ہوگی۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق دہشت گردوں کا تعاقب جاری رہے گا، انہیں جہاں بھی پایا گیا انجام تک پہنچایا جائے گا، اور یہ انتقام سخت، بھاری اور تکلیف دہ ہوگا۔