آبنائے ہرمز کے دوبارہ کھلنے اور بین الاقوامی سطح پر بحری ترسیل بحال ہونے کے بعد پاکستان میں ایل پی جی کی قیمتوں میں کمی کا رجحان شروع ہو گیا ہے، تاہم سرکاری نرخوں پر عمل درآمد نہ ہونے کے باعث عوام تاحال سستی گیس سے محروم ہیں۔
ایل پی جی کی قیمت میں 20 روپے فی کلو کمی واقع ہوئی ہے جس کے بعد یہ 390 روپے فی کلو میں فروخت ہو رہی ہے، جبکہ آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کی جانب سے سرکاری قیمت 304 روپے فی کلو مقرر ہے۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق قیمت میں حالیہ کمی کے باوجود ایل پی جی اب بھی سرکاری نرخوں سے 86 روپے فی کلو مہنگی فروخت ہو رہی ہے۔
دوسری جانب، سوئی سدرن گیس کمپنی (ایس ایس جی سی) کی جانب سے قدرتی گیس کی سپلائی صرف دن میں 3 اوقات کار تک محدود کر دی گئی ہے، جس نے گیس کے بحران کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ اس بحران کے نتیجے میں گھریلو صارفین کے ساتھ ساتھ ہوٹلوں اور تجارتی مراکز میں ایل پی جی کی طلب میں نمایاں اضافہ ہو چکا ہے۔
عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ حکام سرکاری قیمت پر ایل پی جی کی فروخت کو یقینی بنانے میں مکمل طور پر ناکام نظر آتے ہیں۔ قانونی طور پر قیمتوں پر عمل درآمد کرانا صوبائی حکومتوں اور ضلعی انتظامیہ (کمشنرز) کی ذمہ داری ہے، لیکن مارکیٹ میں گراں فروشی عروج پر ہے۔ سامنے آنے والی اس صورتحال نے صارفین کو شدید ذہنی و مالی اضطراب میں مبتلا کر رکھا ہے۔
آبنائے ہرمز کی حالیہ بندش اور مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کی وجہ سے پاکستان میں توانائی کی مصنوعات کی درآمد شدید متاثر ہوئی تھی، جس کے باعث ایل پی جی کی قیمتوں میں مصنوعی اور حقیقی دونوں طرح کا اضافہ دیکھا گیا۔
اب جبکہ سفارتی کوششوں اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے دورۂ ایران جیسے اقدامات کے بعد یہ آبی گزرگاہ بحال ہو رہی ہے، عالمی مارکیٹ میں سپلائی بہتر ہوئی ہے۔
تاہم پاکستان کے اندرونی ڈھانچے میں گیس کی قلت اور انتظامیہ کی کمزوری کی وجہ سے عالمی ریلیف کے اثرات براہِ راست غریب صارفین تک نہیں پہنچ پا رہے۔ سوئی سدرن کی جانب سے گیس کی راشننگ نے ایل پی جی کو ایک لازمی ضرورت بنا دیا ہے، جس کا فائدہ منافع خور مافیا اٹھا رہا ہے۔