دنیا بھر کے محاذوں پر مصنوعی ذہانت (AI) سے چلنے والے ہتھیاروں کے استعمال میں اضافہ ہورہا ہے ، روس یوکرین جنگ، امریکا و اسرائیل کی ایران کیخلاف کارروائیاں اور اسرائیل فلسطین جنگ میں بھی اے آئی ٹیکنالوجی کے بڑھتے استعمال کی رپورٹس سامنے آئی ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکا کے محکمۂ دفاع (پینٹاگون) نے ایران کے خلاف آپریشن ایپک فیوری کے دوران کمپنی اینتھروپک Anthropic کے اے آئی ماڈل کلاؤڈ سے مدد لی۔
اس حوالے سے ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اے آئی ہتھیاروں کے بڑھتے ہوئے استعمال سے انسانی نگرانی اور فیصلہ سازی کا کردار محدود ہو سکتا ہے۔
رپورٹس کے مطابق امریکا اور اسرائیل نے کارروائی کے ابتدائی 12 گھنٹوں میں ایران پر تقریباً 900 حملے کیے، اس ضمن میں تجزیہ کاروں کے مطابق اے آئی سسٹمز فوجی کِل چین (Kill Chain) کو مختصر کر دیتے ہیں، یعنی ہدف کی نشاندہی، قانونی منظوری اور حملے کے نفاذ تک کا عمل غیر معمولی رفتار سے مکمل ہو جاتا ہے، بعض ماہرین کے بقول سوچ کی رفتار سے بھی تیز۔
لندن کی کوئین میری یونیورسٹی کے پروفیسر ڈیوڈ لیس لی کا کہنا ہے کہ یہ فوجی حکمتِ عملی اور عسکری ٹیکنالوجی کا اگلا دور ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اے آئی پر حد سے زیادہ انحصار ڈیسیشن کمپریشن (Decision Compression) کا باعث بن سکتا ہے، جس میں انسانی کردار محض خودکار فیصلوں پر رسمی مہر لگانے تک محدود ہو جاتا ہے، اسے انہوں نے کگنیٹو آف لوڈنگ یعنی انسانی ذہنی ذمے داری کی منتقلی سے تعبیر کیا ہے۔
یوکرین نے بھی روس کے خلاف اپنی فوجی کارروائیوں، خصوصاً ڈرون وارفیئر میں اے آئی کو وسیع پیمانے پر شامل کیا ہے، جس سے ہدف بندی اور نگرانی کی صلاحیت میں اضافہ ہوا ہے۔
اے آئی کے عسکری استعمال پر تنازع اس وقت مزید بڑھا جب اینتھروپک اور پینٹاگون کے درمیان اختلافات سامنے آئے، کمپنی نے 2024ء میں اپنے ماڈلز محکمۂ دفاع کو فراہم کیے تاکہ جنگی منصوبہ بندی اور انٹیلی جنس تجزیے کو تیز کیا جا سکے۔
تاہم سان فرانسسکو میں قائم اس کمپنی نے واضح مؤقف اختیار کیا کہ اس کی ٹیکنالوجی کو مکمل خودکار ہتھیاروں میں انسانی نگرانی کے بغیر استعمال نہ کیا جائے، کمپنی نے پینٹاگون کی جانب سے ممکنہ وسیع پیمانے پر داخلی نگرانی کے استعمال پر بھی تحفظات ظاہر کیے۔
رپورٹس کے مطابق انہی اختلافات کے بعد اینتھروپک کو بعض وفاقی اداروں کے لیے بلیک لسٹ کر دیا گیا۔
دفاعی ماہرین کے مطابق مصنوعی ذہانت جنگی حکمتِ عملی میں بنیادی تبدیلیاں لا رہی ہے، جہاں رفتار، وسیع ڈیٹا کے استعمال اور خودکار فیصلوں کو مرکزی اہمیت حاصل ہوتی جا رہی ہے۔
تاہم اہم سوال یہ ہے کہ آیا انسان فیصلہ سازی کے عمل میں پس منظر میں چلا جائے گا یا ٹیکنالوجی صرف معاون کردار تک محدود رہے گی؟ ماہرین کے نزدیک یہ بحث آنے والے برسوں میں عالمی سلامتی اور بین الاقوامی قوانین کے لیے ایک سنجیدہ اور پیچیدہ چیلنج بن سکتی ہے۔