امریکا کے سابق وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے ایران کے ساتھ جاری کشیدگی اور ممکنہ جنگی صورتحال کے خاتمے کے لیے ایک نئی تجویز پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کو ایسے سیاسی راستے اختیار کرنے چاہییں جن کے ذریعے تنازع کو مزید بڑھنے سے روکا جا سکے۔
ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے، اس لیے ضروری ہے کہ حالات کو جنگ کے بجائے سیاسی اور سفارتی طریقوں سے سنبھالا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات میں ایسا راستہ بھی اختیار کیا جا سکتا ہے جس کے ذریعے ٹرمپ انتظامیہ اپنے مقاصد کے حصول کا اعلان کر کے کشیدگی کم کر دے۔
سابق امریکی وزیر خارجہ کے مطابق ایک ممکنہ حکمت عملی یہ ہو سکتی ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ یہ مؤقف اختیار کرے کہ ایران کی قیادت کو شدید دھچکا پہنچایا جا چکا ہے اور ایران کے جوہری اور میزائل پروگرام کو بھی نمایاں حد تک کمزور کر دیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس طرح کی حکمت عملی کے ذریعے امریکا یہ تاثر دے سکتا ہے کہ اس نے اپنے اہداف حاصل کر لیے ہیں اور اب مزید عسکری کارروائی کی ضرورت نہیں رہی۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس کے بعد امریکا کو ایران کے مستقبل کا فیصلہ ایرانی عوام پر چھوڑ دینے کا اعلان کرنا چاہیے تاکہ خطے میں کشیدگی کم ہو سکے اور حالات کو ایک نئے سیاسی مرحلے میں داخل ہونے کا موقع ملے۔ ان کے مطابق اس طریقے سے نہ صرف جنگی ماحول میں کمی لائی جا سکتی ہے بلکہ خطے میں بڑے پیمانے پر تصادم کے خطرات کو بھی کم کیا جا سکتا ہے۔
انٹونی بلنکن نے خبردار کیا کہ ایران کے ساتھ براہ راست جنگ نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ عالمی معیشت، توانائی کی منڈیوں اور عالمی سلامتی کو بھی متاثر کر سکتی ہے۔ ان کے مطابق ایسی جنگ سے تیل اور گیس کی قیمتوں میں شدید اضافہ ہو سکتا ہے جبکہ خطے میں مزید عدم استحکام پیدا ہونے کا خدشہ بھی بڑھ جائے گا۔
واضح رہے کہ سابق امریکی وزیر خارجہ کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی مسلسل بڑھ رہی ہے اور دنیا کو ایک ممکنہ بڑے تصادم کا خدشہ لاحق ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر سفارتی راستہ اختیار نہ کیا گیا تو صورتحال مزید پیچیدہ ہو سکتی ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ انٹونی بلنکن کی یہ تجویز دراصل ایک ایسا سیاسی راستہ فراہم کرنے کی کوشش ہے جس کے ذریعے امریکا اپنی ساکھ برقرار رکھتے ہوئے جنگی صورتحال سے نکل سکے۔ ان کے مطابق اگر اس طرح کا کوئی فارمولا اختیار کیا جاتا ہے تو اس سے نہ صرف خطے میں کشیدگی کم ہو سکتی ہے بلکہ عالمی سطح پر بھی ایک بڑے بحران کو ٹالا جا سکتا ہے۔