چینی وزیر خارجہ وانگ ای نے کہا ہےکہ چین خطے میں بڑھتے تنازع ایران پر مسلط اسرائیل امریکا جنگ میں ثالثی کے لیے اپنا نمائندہ خصوصی مشرق وسطیٰ بھیجے گا۔
چینی وزیر خارجہ وانگ ای نے سعودی اور اماراتی وزرائے خارجہ سے ٹیلی فون پر گفتگوکی ، جس میں انہوں نے کہا کہ چین ریاض کی جانب سے دکھائے گئے تحمل اور تنازعات کو پرامن ذرائع سے حل کرنے کے عزم کی قدر کرتا ہے۔
چینی وزیر خارجہ نے کہا کہ تنازعات میں شہریوں کے تحفظ کی سرخ لکیر کو عبور نہیں کیا جانا چاہیے اور نہ ہی توانائی اور غیر عسکری اہداف پر حملے کرنے چاہئیں۔
انہوں نے اعلان کیا کہ چین ثالثی کے لیے اپنا نمائندہ خصوصی مشرق وسطیٰ بھیجے گا، چینی وزیر خارجہ نے جہاز رانی کے لیے بحری راستے محفوظ ہونے پر بھی زور دیا ۔
چینی وزارت خارجہ کا یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے گزشتہ روز دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے خلاف امریکہ-اسرائیل جنگ میں چین اور روس بااثر عوامل نہیں ہیں۔
ایک پریس کانفرنس میں ایران کے اتحادیوں، خاص طور پر روس اور چین کے لیے ان کے پیغام کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں وزیر دفاع نے کہا ان کے پاس ان کے لیے کوئی پیغام نہیں ہے، وہ یہاں بااثر عنصر نہیں ہیں ، ہمارا مسئلہ ان کے ساتھ نہیں بلکہ ایران کے ایٹمی عزائم کے ساتھ ہے۔
واضح رہے 28 فروری 2026 کی صبح اسرائیل نے ایران پر حملے کے آغاز کا اعلان کیا تھا۔ واشنگٹن نے بعد میں بتایا کہ اس نے اسرائیل کے ساتھ مل کر ایک بڑے پیمانے پر آپریشن شروع کیا ہے۔
ایران نے اس کے جواب میں اسرائیل اور خلیجی ملکوں ، جہاں کئی امریکی اڈے موجود ہیں، کے علاوہ عراق اور اردن کی طرف میزائلوں اور ڈرونز کی بوچھاڑ کی ہے۔