تعلیمی اداروں اور دفاتر میں کورونا کے دور کی طرز پر آن لائن سسٹم کی واپسی کے حوالے سے عوام کے لیے بڑی خبر سامنے آگئی ہے۔
تفصیلات کے مطابق حکومت نے ملک میں توانائی کی بچت اور موجودہ صورتحال سے نمٹنے کے لیے قومی ایکشن پلان کی تیاریاں تیز کر دی ہیں۔
ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت کورونا دور کی طرز پر ملک بھر میں آن لائن اور اسمارٹ آفیشل ورکنگ سسٹم دوبارہ نافذ کرنے پر سنجیدگی سے غور کر رہی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت نے مارچ 2026 کے دوران تعلیمی اداروں میں باقاعدہ کلاسز کے بجائے آن لائن سیشنز شروع کرنے پر مشاورت شروع کر دی ہے، تاکہ اسکولوں اور کالجوں کی ٹرانسپورٹ اور بجلی کے استعمال کو کم کیا جا سکے۔
نئے پلان کے تحت سرکاری اور نجی دفاتر میں بھی تبدیلیاں لانے کی تجویز زیر غور ہے۔ مارچ کے مہینے میں تمام دفاتر میں صرف انتہائی ضروری اسٹاف کو بلانے کی تجویز دی گئی ہے۔
اسی طرح کارپوریٹ سیکٹر، ٹیلی کام اور آئی ٹی کمپنیوں کے ملازمین کو ہفتے میں دو دن آن لائن خدمات انجام دینے کی ہدایت بھی کی جا سکتی ہے۔
ذرائع کے مطابق دفاتر میں ملازمین کے لیے شیئرنگ رائڈز (کار پولنگ) کی حوصلہ افزائی کے لیے بھی تجاویز تیار کی جا رہی ہیں۔
ان اقدامات کا بنیادی مقصد ایندھن اور توانائی کی کھپت کو کم سے کم کرنا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اسمارٹ ورکنگ اور ریموٹ آفس ورک کے ذریعے نہ صرف بجلی کی بچت ممکن ہوگی بلکہ سڑکوں پر ٹریفک کا دباؤ کم ہونے سے پیٹرولیم مصنوعات کی مانگ میں بھی کمی آئے گی۔