پاک افغان سرحدی کشیدگی: روس کا اظہار تشویش، مذاکراتی حل پر زور

پاک افغان سرحدی کشیدگی: روس کا اظہار تشویش، مذاکراتی حل پر زور

روس نے پاک افغان سرحد پر بڑھتی ہوئی کشیدگی اور حالیہ فضائی و زمینی کارروائیوں پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے دونوں پڑوسی ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ طاقت کے استعمال کے بجائے مسائل کو مذاکرات کی میز پر حل کریں۔

عالمی میڈیا رپورٹ کے مطابق روسی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ پاک افغان سرحد پر جاری جھڑپوں اور لڑائی کی اطلاعات باعثِ تشویش ہیں۔

روسی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ گزشتہ دنوں سرحدی علاقوں میں طیاروں اور بھاری ہتھیاروں کے استعمال کے ساتھ مسلح جھڑپوں کی اطلاعات ہیں۔ روسی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ پاکستان اورایران سے واپس آنے والے افغان مہاجرین بھی سرحدی کشیدگی سے متاثر ہورہے ہیں۔

روسی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ کابل اور اسلام آباد سے اپیل ہےکہ فوجی تصادم سے گریزکریں، دونوں ممالک باہمی احترام کیساتھ مذاکرات کے ذریعے مسائل حل کریں

روسی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ خطے میں عدم استحکام کے اثرات نہ صرف جنوبی ایشیا بلکہ وسطی ایشیا کی سلامتی پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں، اس لیے تحمل کا مظاہرہ کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

ماسکو کا ماننا ہے کہ سرحد پار دہشت گردی ایک سنجیدہ مسئلہ ہے جس سے نمٹنے کے لیے باہمی تعاون اور انٹیلی جنس شیئرنگ کا موثر طریقہ کار وضع کیا جانا چاہیے تاکہ کسی بھی قسم کی غلط فہمی کو دور کیا جا سکے۔ روسی حکام نے پیشکش کی ہے کہ وہ خطے میں امن کے قیام کے لیے اپنا ثالثی کا کردار ادا کرنے کو تیار ہیں کیونکہ پاک افغان سرحد پر امن ہی پورے خطے کی معاشی ترقی اور سلامتی کی ضمانت ہے۔

روس نے پاک افغان سرحد پر بڑھتی ہوئی کشیدگی اور حالیہ فضائی و زمینی کارروائیوں پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے دونوں پڑوسی ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ طاقت کے استعمال کے بجائے مسائل کو مذاکرات کی میز پر حل کریں۔

روسی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ کابل اور اسلام آباد سے اپیل ہےکہ فوجی تصادم سے گریزکریں، دونوں ممالک باہمی احترام کیساتھ مذاکرات کے ذریعے مسائل حل کریں

روسی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ خطے میں عدم استحکام کے اثرات نہ صرف جنوبی ایشیا بلکہ وسطی ایشیا کی سلامتی پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں، اس لیے تحمل کا مظاہرہ کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

ماسکو کا ماننا ہے کہ سرحد پار دہشت گردی ایک سنجیدہ مسئلہ ہے جس سے نمٹنے کے لیے باہمی تعاون اور انٹیلی جنس شیئرنگ کا موثر طریقہ کار وضع کیا جانا چاہیے تاکہ کسی بھی قسم کی غلط فہمی کو دور کیا جا سکے۔ روسی حکام نے پیشکش کی ہے کہ وہ خطے میں امن کے قیام کے لیے اپنا ثالثی کا کردار ادا کرنے کو تیار ہیں کیونکہ پاک افغان سرحد پر امن ہی پورے خطے کی معاشی ترقی اور سلامتی کی ضمانت ہے۔

editor

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *