مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی ایک ہولناک اور فیصلہ کن موڑ پر پہنچ گئی ہے جہاں ایران نے اسرائیل کے خلاف “آپریشن وعدہ صادق” کے اگلے مرحلے کا آغاز کرتے ہوئے سینکڑوں بیلسٹک میزائلوں کی بارش کر دی ہے۔
تازہ ترین اطلاعات کے مطابق تہران اور ایران کے دیگر حصوں سے یکے بعد دیگرے داغے گئے ان طاقتور میزائلوں نے چند ہی منٹوں میں اسرائیلی فضائی حدود میں داخل ہو کر تل ابیب، یروشلم اور اہم فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے جس کے بعد پورے اسرائیل میں سائرن گونج اٹھے اور لاکھوں افراد نے بنکروں میں پناہ لے لی ہے۔
ایرانی پاسدارانِ انقلاب کا دعویٰ ہے کہ اس حملے میں جدید ترین ہائپرسونک میزائلوں کا استعمال کیا گیا ہے جنہوں نے اسرائیلی دفاعی نظام ‘آئرن ڈوم’ کو چکمہ دیتے ہوئے متعدد اسٹریٹجک اہداف کو کامیابی سے نشانہ بنایا ہے۔
اسرائیلی حکام نے حملے کی تصدیق کرتے ہوئے اسے اپنی تاریخ کا ایک بڑا چیلنج قرار دیا ہے جبکہ دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس سے جاری بیان میں اسے ایران کی “آخری غلطی” قرار دیتے ہوئے سخت ترین جوابی کارروائی کا انتباہ دیا ہے۔
اس غیر معمولی حملے کے نتیجے میں عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اچانک اور بڑا اضافہ دیکھا جا رہا ہے اور پوری دنیا کی نظریں اب اسرائیل کے ممکنہ جواب اور خطے میں چھڑنے والی اس ہمہ گیر جنگ کے نتائج پر لگی ہوئی ہیں۔