ایران کا تل ابیب پر ’خیبر شکن‘ میزائلوں سے بڑا حملہ

ایران کا تل ابیب پر ’خیبر شکن‘ میزائلوں سے بڑا حملہ

ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے اسرائیل کے دارالحکومت تل ابیب پر جدید ترین ’خیبر شکن‘ بیلسٹک میزائلوں سے حملہ کر دیا۔ روسی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق، یہ حملہ محض روایتی میزائلوں تک محدود نہیں تھا بلکہ یہ میزائل خطرناک ’کلسٹر بموں‘ سے لیس تھے، جو فضا میں پہنچ کر کئی چھوٹے بموں میں تقسیم ہو کر وسیع رقبے پر تباہی پھیلانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

روسی میڈیا کا دعویٰ ہے کہ ایران نے ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت درجنوں ڈرونز اور میزائلوں کے ذریعے اسرائیل کی فضائی حدود کو نشانہ بنایا۔ حملے کی شدت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ تل ابیب کی فضاؤں میں میزائلوں کے داخل ہونے کی گرجدار آوازیں سنی گئیں، تاہم تاحال ان حملوں کے مخصوص اہداف اور ان سے ہونے والے جانی یا مالی نقصان کی درست تفصیلات سامنے نہیں آ سکیں۔ اسرائیلی حکام کی جانب سے معلومات پر سخت سنسر شپ برقرار ہے، جس کی وجہ سے نقصانات کا اندازہ لگانا مشکل ہو رہا ہے۔

اس عسکری کارروائی کے دوران ایک پراسرار واقعہ بھی رپورٹ ہوا ہے جس نے عالمی میڈیا کی توجہ حاصل کر لی ہے۔ روسی میڈیا کے مطابق، تل ابیب کی فضائی صورتحال کو براہِ راست دکھانے والے کیمروں کو عین اس وقت نیچے کی طرف موڑ دیا گیا جب ایرانی میزائل شہر کے اوپر پہنچے اور ان کے گرجنے کی آوازیں سنائی دینے لگیں۔ کیمرے کے رخ کو تبدیل کر کے آسمان کے بجائے سڑک دکھائی جانے لگی، جسے ماہرین نقصانات کو چھپانے اور لائیو کوریج کو روکنے کی ایک دانستہ کوشش قرار دے رہے ہیں۔

حیرت انگیز طور پر، روسی ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ جس وقت ایرانی میزائل تل ابیب کی فضاؤں میں داخل ہوئے، شہر میں خطرے کے سائرن تک نہیں بجائے گئے۔

یہ صورتحال اسرائیلی دفاعی نظام ’آئرن ڈوم‘ اور ریڈار وارننگ سسٹم کی کارکردگی پر ایک بڑا سوالیہ نشان کھڑی کرتی ہے۔ ’خیبر شکن‘ میزائل اپنی تیز رفتاری اور 1,450 کلومیٹر تک مار کرنے کی صلاحیت کے باعث روایتی دفاعی ڈھال کو توڑنے کے لیے مشہور ہے، اور کلسٹر بموں کے ساتھ اس کا استعمال زمینی اہداف کے لیے مزید مہلک ثابت ہو سکتا ہے۔

مزید پڑھیں: ’خامنہ ای کا بیٹا قبول نہیں، وہ ایک غیر اہم شخصیت ہے‘: ڈونلڈ ٹرمپ کا ایران کی نئی قیادت کے حوالے سے دھماکہ خیز بیان

editor

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *