اسرائیلی آرمی چیف نے ایران جنگ کے اگلے مرحلے کے آغاز کا اعلان کیا ہے۔
اسرائیلی آرمی چیف نے کہا کہ سرپرائز دیں گے، سرپرائز کیا ہے یہ ابھی نہیں بتا سکتے، اگلے مرحلے میں بقیہ ایرانی قیادت اور فوجی صلاحیتیں ختم کی جائیں گی۔
اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے کہا تھا کہ ان کے امریکی ہم منصب پیٹ ہیگسِتھ (Pete Hegseth)نے ایران کے خلاف مشترکہ حملے کی مضبوط حمایت کا یقین دلایا ہے اور اسرائیل پر زور دیا ہے کہ وہ اسے آخری حد تک جاری رکھے۔
ادھر امریکا نے گزشتہ 72 گھنٹوں کے دوران ایران کے 200 اہداف پر حملے کر کے بیلسٹک میزائل کے ذخیرے اور 30 سے زائد بحری جہاز تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
اسرائیل نے گزشتہ 28 فروری کی صبح ایران پر حملہ شروع کرنے کا اعلان کیا تھا ، بعد ازاں واشنگٹن نے بتایا کہ اس نے اسرائیل کے ساتھ مل کر ایک وسیع فوجی کارروائی شروع کی ہے، جس کا مقصد ایرانی نظام کو گرانا ہے۔
واضح رہے کہ ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں میں جاں بحق ہونے والے افراد کی تعداد ایک ہزار 230 ہو گئی، عرب میڈیا کے مطابق اموات میں زیادہ تعداد میناب سکول کی طالبات کی ہے جبکہ ایران اور حزب اللہ کے حملوں میں 11 اسرائیلی ہلاک ہوئے۔
ایران کے جوابی حملے
دوسری جانب مشرق وسطیٰ میں امریکی اور اسرائیلی اہداف پر ایران کی جانب سے جوابی حملے کیے گئے۔
ایرانی فوج کے مطابق جاری جنگ کے دوران اب تک 500 سے زائد بیلسٹک اور کروز میزائل داغے جا چکے ہیں جبکہ مختلف اقسام کے 2 ہزار سے زیادہ ڈرونز بھی فائر کیے گئے ہیں۔
فوجی حکام کا کہنا ہے کہ فائر کیے گئے میزائلوں میں سے تقریباً 60 فیصد امریکی افواج کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال کیے گئے جبکہ 40 فیصد میزائل اسرائیلی علاقوں پر حملوں کے لیے داغے گئے۔
عرب میڈیا کے مطابق ایران کے جوابی حملوں میں مارے گئے امریکی فوجیوں کی تعداد 6 ہوگئی، لبنان پر جاری اسرائیلی بربریت میں 77 افراد جاں بحق ہوئے، بحرین میں ایرانی حملے میں ایک، عمان میں ایرانی پروجیکٹائل حملے میں ایک شخص جان کی بازی ہار گیا۔
قطر کے دارالحکومت دوحہ میں بھی شدید دھماکے سنے گئے، ایران کے داغے گئے تیرہ میزائل اور چار ڈرون حملوں کو ناکام بنایا، ایک میزائل قطر کی سمندری حدود میں گرا۔
ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے اسرائیل کے دارالحکومت تل ابیب پر جدید ترین ’خیبر شکن‘ بیلسٹک میزائلوں سے بھی حملہ کیا ،روسی میڈیا رپورٹس کے مطابق، یہ حملہ محض روایتی میزائلوں تک محدود نہیں تھا بلکہ یہ میزائل خطرناک ’کلسٹر بموں‘ سے لیس تھے، جو فضا میں پہنچ کر کئی چھوٹے بموں میں تقسیم ہو کر وسیع رقبے پر تباہی پھیلانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔