جنگ بندی چاہتے نہ ہی امریکہ کے ساتھ مذاکرات، ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی

جنگ بندی چاہتے نہ ہی امریکہ کے ساتھ مذاکرات، ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ایران مشرق وسطیٰ میں جنگ کے چھٹے دن نہ تو جنگ بندی کا خواہاں ہے اور نہ ہی امریکہ کے ساتھ مذاکرات کا۔

عرب میڈیا کے مطابق عباس عراقچی نے غیرملکی میڈیا کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ہم جنگ بندی کا مطالبہ نہیں کر رہے ، نہ ہی ہمیں امریکہ کے ساتھ مذاکرات کی کوئی وجہ نظر آتی ہے، ہم نے ان سے دو بار مذاکرات کیےاور ہر بار انہوں نے مذاکرات کے دوران ہم پر حملہ کیا،  ہمیں جنگ بندی کی کوئی درخواست ملی نہ امریکہ کے ساتھ مذاکرات کی۔ نہ ہی ہم نے انہیں کبھی ایسے پیغامات بھیجے ہیں۔

عباس عراقچی نے دعویٰ کیا کہ امریکہ اپنے بنیادی مقصد، یعنی ایران پر تیزی سے فتح حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ میرا خیال ہے کہ جنگ کے چھ دن بعد یہ واضح ہو گیا ہے کہ امریکہ اپنے اصل مقصد، یعنی ایک فیصلہ کن اور فوری فتح حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے،  وہ اس میں ناکام رہے ہیں اور اب وہ ہم پر اپنے حملے کا جواز پیش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں :امریکی و اسرائیلی جنگی طیاروں کی تہران میں شدید بمباری

یاد رہے تقریباً ایک ہفتہ قبل عباس عراقچی جنیوا میں امریکی صدر کے مندوب سٹیو وٹکوف اور ان کے داماد جیرڈ کشنر کے ساتھ ایک ممکنہ معاہدے پر مذاکرات کر رہے تھے لیکن عراقچی نے کہا کہ مذاکرات کے دوران ہونے والے حملے نے مستقبل کی کسی بھی بات چیت پر ایران کے موقف کو کمزور کر دیا ہے ۔

انہوں نے مزید کہا کہ گزشتہ ہفتے سے وٹکوف یا کشنر کے ساتھ کوئی رابطہ نہیں ہوا ہے۔

ایرانی وزیرخارجہ نے کہا کہ حقیقت یہ ہے کہ ہمارا امریکہ کے ساتھ، خاص طور پر اس انتظامیہ کے ساتھ مذاکرات کا کوئی مثبت تجربہ نہیں ہے، ہم نے گزشتہ سال اور اس سال دو بار مذاکرات کیے پھر مذاکرات کے دوران انہوں نے ہم پر حملہ کردیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس لیے ہمیں ایسی فریقین کے ساتھ دوبارہ شامل ہونے کی کوئی وجہ نظر نہیں آتی جو مذاکرات میں مخلص نہیں ہیں اور نیک نیتی کے ساتھ مذاکرات میں داخل نہیں ہوتے۔

یہ بھی پڑھیں :اسرائیل کی جانب سے ایران جنگ کے اگلے مرحلے کے آغاز کا اعلان

اسرائیل نے گزشتہ 28 فروری کی صبح ایران پر حملہ شروع کرنے کا اعلان کیا تھا ، بعد ازاں واشنگٹن نے بتایا کہ اس نے اسرائیل کے ساتھ مل کر ایک وسیع فوجی کارروائی شروع کی ہے، جس کا مقصد ایرانی نظام کو گرانا ہے۔

editor

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *